تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 21 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان؛ بلوچستان بھر میں کالی جھنڈیاں اور احتجاجی مظاہرے ہوں گے ‘ صوبائی اجلاس میں فیصلہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کا صوبائی اجلاس پشتونخوامی ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تحریک انصاف، بلوچستان نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور پشتونخوامیپ کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے اعلان کے مطابق صوبے بھر سمیت ملک بھر میں 21 نومبر 2025 کو یومِ سیاہ منایا جائے گا، بعد از نماز جمعہ مساجد کے سامنے کالی جھنڈیاں لہرائی جائیں گی اور ”ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، جمہوریت زندہ باد، آمریت مردہ باد، عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو“ کے نعرے لگائے جائیں گے۔
اجلاس میں تمام جماعتوں کے کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ یومِ سیاہ کی بھرپور تیاری کریں اور عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی۔ رہنماؤں نے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں شامل سیاسی جماعتیں نام نہاد حکومت اور اس کی متنازع آئینی ترامیم کے خلاف منظم احتجاج کریں گی۔ اجلاس میں فارم 47 کے تحت لائی گئی نام نہاد حکومت اور پارلیمنٹ کو آئین کی روح اور وفاقی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ ترمیمات کا مقصد ایک فرد واحد کو اختیارات کے مرکز میں لانا اور ریاستی اداروں کو اس کے تابع کرنا ہے جو ملک اور اس کے مستقبل کے ساتھ سنگین کھیل ہے۔
آخر میں صوبے کے عوام اور جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر آئینی ترامیم اور غیر نمائندہ ٹولے کے کالے اقدامات کے خلاف احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ساتھ دیں۔
