موسیٰ خیل میں ڈپٹی کمشنر کی عدم تعیناتی سے سرکاری امور ٹھپ، تعلیمی عمل متاثر، فوری نوٹس لیا جائے، سماجی حلقے

موسیٰ خیل(قدرت روزنامہ) 30 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر ضلع موسیٰ خیل کا تبادلہ عمل میں لایا گیا، تاہم تبادلے کے بعد سے اب تک نئے ڈپٹی کمشنر کی تقرری نہیں ہوسکی۔ انتظامی سربراہ کی عدم موجودگی کے باعث ضلع میں متعدد سرکاری امور تعطل کا شکار ہیں، جس سے عوامی مسائل میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
مقامی انتظامیہ اور شہریوں کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی عدم تعیناتی کا سب سے زیادہ اثر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر پڑا ہے، جہاں حالیہ کنٹریکٹ پوسٹنگز سمیت کئی اہم فائلیں صرف ڈپٹی کمشنر کے دستخط نہ ہونے کے باعث رکی ہوئی ہیں۔ اس صورتحال سے سرکاری عملے، اساتذہ، اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے کے سماجی رہنماؤں اور عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع موسیٰ خیل میں جلد از جلد مستقل ڈپٹی کمشنر تعینات کیا جائے تاکہ انتظامی کام بحال ہوسکیں اور عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے اہم معاملات—بشمول ترقیاتی منصوبوں، ایمرجنسی مینجمنٹ، ریلیف سرگرمیوں اور بالخصوص تعلیمی محکمے میں جاری تقرریوں—کا انحصار ڈپٹی کمشنر کی موجودگی پر ہوتا ہے، اس لیے یہ انتظامی خلاء مزید دیر تک برقرار رہنا علاقے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ عوام اور متعلقہ محکموں کی جانب سے حکومت بلوچستان سے اپیل ہے کہ ضلع موسیٰ خیل میں فوری بنیادوں پر ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ معطل شدہ امور کو بحال کیا جا سکے۔
