ڈیجیٹل تشدد بھی حقیقی تشدد ہے، خواتین کو آن لائن محفوظ بنانے کیلئے قوانین اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے
حکومتِ بلوچستان اور اقوامِ متحدہ کی خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے عالمی 16 روزہ مہم کی افتتاحی تقریب

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)حکومتِ بلوچستان اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے عالمی 16 روزہ مہم کے تحت کوئٹہ میں تقریب کا انعقاد کیا، جس کا موضوع “سائبر کرائم اور آن لائن ہراسگی کے خلاف خواتین سروس پرووائیڈرز کا کردار — خواتین و لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کا خاتمہ” تھا۔ تقریب میں ملک بھر میں آن لائن صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے رحجانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین اور لڑکیوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط قوانین، مؤثر حکمرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ جیسے جیسے پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے، سائبر اسٹاکنگ، آن لائن ہراسگی، جعلی معلومات، شناخت کی چوری، اور آرٹیفشل انٹیلجنس کے ذریعے ہونے والی بدسلوکی کے واقعات سنگین خطرات کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِ تعلیم بلوچستان راہیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ تشدد کی نوعیت بدل چکی ہے اور ہمارے اداروں کو بھی اس تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، کیونکہ ڈیجیٹل تشدد بھی حقیقی تشدد ہے۔ یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری ریپریزنٹیٹو جیکی کیتونوتی نے کہا کہ ڈیجیٹل تحفظ اب ثانوی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ خواتین کے حقوق اور آزادی کا بنیادی حصہ ہے۔ وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان آگاہی، تحفظ اور رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ تقریب میں ماہرین پر مشتمل پینل مباحثہ بھی ہوا جس میں پولیس، ایف آئی اے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کا اختتام ڈیجیٹل کمیٹمنٹ وال پر دستخط اور نارنجی غبارے فضا میں چھوڑ کر کیا گیا جو اس عزم کی علامت تھے کہ خواتین کے خلاف ہر طرح کا تشدد ناقابلِ قبول ہے۔
