غیر معیاری اور ری سائیکل شدہ کوکنگ آئل کی کھلے عام فروخت شہریوں کے لیے خطرہ بن گئی

کوئٹہ میں ناقص تیل کی سپلائی فوری طور پر روکی جائے، بصورت دیگر صحت عامہ کا بحران پیدا ہو سکتا ہے،شہری


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور گردونواح میں غیر معیاری، مضر صحت اور ری سائیکل شدہ کوکنگ آئل کی کھلے عام فروخت ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جنرل اسٹورز، بیکریوں، تندوروں اور ہوٹلوں میں ایسا آئل بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
یو این اے کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع، خاص طور پر تفتان سے سینکڑوں لیٹر ناقص تیل خفیہ راستوں سے کوئٹہ لایا جاتا ہے، جسے کم قیمت پر فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری حضرات اسے پکا ہوا تیل ملا کر پتلا بھی کرتے ہیں۔ اس عمل سے آئل کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے، لیکن دکاندار اور ہوٹل مالکان اسے کھانے پکانے میں استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔
ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ناقص تیل کے استعمال سے پیٹ کے امراض، ہیضہ، فوڈ پوائزننگ، معدے کے السر، کولیسٹرول میں اضافہ اور جگر کے مسائل تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ متعدد مریض روزانہ کلینکس میں رپورٹ کر رہے ہیں جنہیں بخار، قے اور شدید معدے کی تکالیف لاحق ہیں۔
شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، اور متعدد بار شکایات کے باوجود غیر معیاری آئل کی فروخت پر کوئی مثر کارروائی نہیں کی گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص آئل کھلے ڈرموں میں بغیر لیبل اور تاریخ کے فروخت کیا جا رہا ہے، جو واضح طور پر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عمائدین اور سماجی کارکنان نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کوئٹہ میں صحت عامہ کا ایک بڑا بحران جنم لے سکتا ہے، خاص طور پر سردیوں میں معدے اور آنتوں کے امراض میں اضافے کے پیش نظر۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوکنگ آئل کی سپلائی لائن کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے، غیر قانونی گوداموں اور ڈیلرز کے خلاف فوری چھاپے مارے جائیں، ہوٹلوں اور بیکریوں میں معیاری آئل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ شہری اپنی صحت کے بارے میں محتاط رہیں۔

WhatsApp
Get Alert