کوئٹہ بلدیاتی الیکشن ‘ سرکاری پارٹی نے سول سیکرٹریٹ میں الیکشن کنٹرول روم قائم کر رکھا ہے، فارم 47 کے کونسلرز کو مسلط نہیں ہونے دینگے: نصراللہ زیرے


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور صوبائی ڈپٹی سیکریٹری عبدالرزاق خان بڑیچ نے کہا ہے کہ بلدیاتی ادارے عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وزرا اور حکومتی امیدوار سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اس کھلی مداخلت پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سرکاری پارٹی نے سول سیکریٹریٹ میں اپنا بلدیاتی انتخابی کنٹرول روم قائم کر رکھا ہے، جو انتخابات کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ حیثیت کو مکمل طور پر مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے شفاف انتخابات کے تصور کو بری طرح سبوتاژ کیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے یونین کونسل 44 کے انتخابی دفتر اور یونین کونسل 34 کے علاقے میں منعقد عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماعات سے پارٹی کے ضلعی معاون سیکریٹری حاجی عبدالسلام بڑیچ، محمد رسول ترین، غنی خان مہمند اور ملک عبدالمالک درانی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکریٹری علی محمد ترین اور یونین کونسل 34 کے وارڈ نمبر 1، 2 اور 3 کے امیدواران صادق خان زلان، غلام ربانی بڑیچ، سعد اللہ خان جبکہ یونین کونسل 44 کے وارڈ نمبر 4 کے امیدوار حاجی شائستہ خان بڑیچ، وارڈ نمبر 1 کے محمد ابراہیم خان، وارڈ نمبر 2 کے عمران خان اچکزئی اور وارڈ نمبر 3 کے مسعود خان اچکزئی سمیت پارٹی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر انتخابی دفتر کا فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا۔ تقریروں میں مقررین نے عہد کیا کہ پشتونخوا نیپ کے نامزد امیدوار نئی توانائی اور سیاسی جذبے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ کرپشن، کمیشن خوری اور مافیا سے ہے جو فارم 47 کے ذریعے حکومت تک پہنچے اور اب اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے بلدیاتی اداروں پر قبضہ جمانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ عناصر عوام کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمیں عوامی ووٹ کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہمیں ایجنسیوں اور حکومتی مشینری کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پشتونخوا نیپ کسی صورت فارم 47 کے کونسلرز کو منتخب نہیں ہونے دے گی اور عوام اپنے آزادانہ اختیار اور مرضی سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ آخر میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان، صوبائی الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسران سے مطالبہ کیا کہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال میں ملوث وزرا اور ایم پی ایز کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور انہیں سرکاری مشینری کے ناجائز استعمال سے روکا جائے۔

WhatsApp
Get Alert