عمران خان کا ٹرائل صرف موبائل فون کے ذریعے ہوگا، سلمان اکرم راجہ کا انکشاف


لاہور (قدرت روزنامہ)رہنما پی ٹی آئی اور سینیئر قانون دان سلمان اکرم راجہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ٹرائل کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق، تاریخ میں پہلی بار ایسا عدالتی عمل اختیار کیا جا رہا ہے جس میں ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے صرف ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
نیو ٹی وی سے گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو جیل میں کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، نہ وکلا کو رسائی حاصل ہے اور نہ ہی اہلِ خانہ کو۔


انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایک کوٹھری میں بٹھا دیا جائے گا، ان کے سامنے ایک موبائل فون رکھا جائے گا اور اسی موبائل فون کے ذریعے انہیں عدالت میں موجود تصور کیا جائے گا، جبکہ جج کئی میل دور عدالت میں بیٹھے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جج کو اسکرین پر عمران خان کا چہرہ نظر آ جائے تو یہ فرض کر لیا جائے گا کہ وہ عدالت میں موجود ہیں، حالانکہ عملی طور پر نہ وکیل موجود ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کی براہِ راست عدالتی کارروائی کا موقع دیا جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے سوال اٹھایا کہ آیا یہی وہ طریقہ ہے جو جیل ٹرائل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ جیل ٹرائل کے لیے بھی یہی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت ملزم جیل میں ہونے کے باوجود مکمل طور پر تنہا ہوگا اور اسے صرف ویڈیو لنک، یعنی موبائل فون کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عمل کو شفاف ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقۂ کار سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

WhatsApp
Get Alert