حکمرانوں نے بلدیاتی اداروں کی اہمیت تسلیم نہیں کی، پشتونخوا نیپ قومی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے: عیسیٰ روشان
ترین شور اور کچلاک میں درجنوں افراد کی شمولیت، انتخابی نشان ’انگور کے خوشے‘ پر مہر لگانے کی اپیل

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیپ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسی روشان، مرکزی سیکریٹری مالیات یوسف خان کاکڑ اور صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ پشتونخوا نیپ کی ویژن، قیادت اور کارکنان پشتون افغا ن ملت کے قومی ارمانوں اور امنگوں کے حقیقی ترجمان ہیں۔انہوں نے ترین شور اور کچلاغ کے علاقے کلی لنڈی و کلی اٹوزی میں عوامی اجتماعات اور شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ پارٹی صفوں میں شامل ہو کر قومی اتحاد و اتفاق کی راہ اپنائیں اور پشتونخوا نیپ کے انتخابی نشان انگور کے خوشے پر مہر لگا کر اپنے مسائل کے حل کیلئے جاری جدوجہد کو تقویت دیں۔اجتماعات میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری رحمت اللہ صابر، حاجی ابراہیم موسی خیل، ملا گل رحمان، مصباح خان اور مرکزی کمیٹی کے ممبر واسع افغان، ملک گران، ضلعی معاون امیر محمد بھی شریک ہوئے۔ ترین شور میں 17 افراد اور کچلاغ دویم کلی لنڈی میں 27 افراد نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا اور عوام نے پارٹی امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا۔محمد عیسی روشان نے کہا کہ بلدیاتی نظام نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، مگر ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں نے بلدیاتی اداروں کی اہمیت تسلیم نہیں کی اور انہیں اختیارات اور وسائل فراہم نہیں کیے۔ انہوں نے ضلع کوئٹہ کے عوام پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں فیصلہ کرتے ہوئے پشتونخوا نیپ کے امیدواروں کو کامیاب کریں تاکہ اپنے مسائل کے حل کے لیے جاری جدوجہد کو تقویت دی جا سکے۔
