بولان میں کربلا کا سماں، انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پینے پر مجبور، وبائی امراض پھیل گئے
پبلک ہیلتھ کے کروڑوں کے منصوبے ناکارہ، چیف جسٹس ہائیکورٹ پانی کے بحران کا نوٹس لیں: شہریوں کی دہائی

بولان ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان کے ضلع بولان میں پینے کے صاف پانی کی شدید کمی نے مقامی شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں، جن میں بالاناڑی، بھاگ اور کٹھن شامل ہیں، کے لوگ میلوں دور سے تالابوں اور جوہڑوں کا مضرِ صحت پانی لا کر پی رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہی پانی انسانوں کے ساتھ جانور بھی استعمال کر رہے ہیں، جس سے پھیپھڑوں، معدے اور جلد کی مختلف بیماریاں وبا کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔عوامی حلقوں اور سیاسی و بلدیاتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) نے لاکھوں روپے کے منصوبے لگائے، لیکن ناقص دیکھ بھال اور عدم توجہی کے باعث یہ منصوبے غیر فعال پڑے ہیں۔ اس کے باوجود شہری ایک بوند صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ رواں سال خشک سالی اور بارشوں کی کمی کے سبب تالاب اور قدرتی چشموں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے، جس سے انسانی اور مویشیوں کی زندگی دا پر ہے۔مقامی رہنماں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ ضلع بولان میں پانی کے بحران کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر فعال واٹر سپلائی اسکیمیں اور فلٹر پلانٹس بحال کیے جائیں، نئی اور پائیدار اسکیمیں متعارف کرائی جائیں اور فوری طور پر واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی میں بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہنے والے ضلع بولان کے شہری ریاست کی توجہ کے منتظر ہیں۔
