صنفی بنیاد پر تشدد ذہنی صحت کا بحران ہے، نارنجی اسکارف یکجہتی کی علامت ہے: سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد( ڈیلی قدرت کوئٹہ)صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف یکجہتی کی علامت کے طور پر نارنجی اسکارف تقسیم کرنے کے سادہ مگر پْراثر اقدام کے ذریعے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کمیٹی کے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر آواز اہم ہے اور ہر زندگی مقدس ہے۔یہ اجلاس سینیٹر شیری رحمٰن کی جانب سے رول 218 کے تحت پیش کی گئی اْس تحریک پر مزید غور کے لیے منعقد کیا گیا جس میں صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے بڑھتے ہوئے واقعات اور انتظامی و عدالتی نظام کی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، قر? العین مری، شیری رحمٰن، پونجو بھیل، خلیل طاہر اور عطاالحق نے شرکت کی، جبکہ وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔اجلاس کے آغاز میں چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس بات پر زور دیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کو محض ایک فوجداری جرم ہی نہیں بلکہ ایک سنگین ذہنی صحت کے بحران کے طور پر بھی تسلیم کیا جانا چاہیے، جو بالخصوص خواتین اور بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد زدہ گھریلو ماحول میں پرورش پانے والے بچے گہرے نفسیاتی صدمے کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، جس سے نسل در نسل تشدد کے چکر قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تھانوں اور استغاثہ کے نظام کو محض رسمی کارروائیوں سے آگے بڑھتے ہوئے متاثرین کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنا چاہیے، جہاں ان کی عزتِ نفس اور جذباتی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔چیئرپرسن نے کم سزا کی شرح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جو تقریباً چار فیصد کے لگ بھگ ہے، اور سوال اٹھایا کہ دہائیوں کی قانون سازی اور اصلاحات کے باوجود انصاف کا نظام مؤثر کیوں نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین اور بچیاں غیر محفوظ ہیں تو یہ متاثرین کے خاندانوں کی نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری اور سماجی انصاف کی ناکامی ہے۔ انصاف صرف متاثرین یا ان کے خاندانوں کی ہمت اور وسائل پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ریاستی سطح پر تحفظ، معاونت اور احتساب کے مؤثر نظام ناگزیر ہیں۔سینیٹر شیری رحمٰن نے ریپ، غیرت کے نام پر قتل اور اغوا جیسے سنگین جرائم میں قومی سطح پر انتہائی کم سزا کی شرح کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کو موردِ الزام ٹھہرانے کے رویے، غیرت کے نام پر تشدد کی سماجی قبولیت، اور قانون سازی و عملدرآمد کے درمیان موجود خلیج کی نشاندہی کی۔ انہوں نے تحقیقات اور استغاثہ کے عمل کا جامع آڈٹ، بیانات کی لازمی ریکارڈنگ، اور سنگین صنفی جرائم میں صلح یا سمجھوتوں کے خلاف سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ فوجداری نظامِ انصاف بار بار متاثرین کو ناکام کرتا ہے، اور صلح شدہ مقدمات اکثر متاثرین کو
