ملک میں ہائبرڈ پلس مارشل لا مسلط ہے، آئین کی بالادستی کیلئے وکلا کو کردار ادا کرنا ہوگا: نصراللہ زیرے
غیر آئینی اقدامات سے ادارے کمزور اور عوام بے اختیار ہو رہے ہیں، خاموش نہیں بیٹھیں گے: نومنتخب صدر بار ایسوسی ایشن اورنگزیب خان

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں فسطائیت پر مبنی ایک ہائبرڈ پلس نظام، یعنی ایک طرح کا دائمی مارشل لا مسلط ہے، جس کے نتیجے میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ ایسی سنگین صورتحال میں جہاں سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، وہیں وکلا برادری پر بھی یہ قومی و آئینی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مثر کردار ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر اور پشتونخوا وکلا یونٹ کے ڈپٹی سیکریٹری ایڈوکیٹ اورنگزیب خان، نائب صدر شیریار خان لودھی اور جنرل سیکریٹری میر فہد مینگل کو ضلع کچہری میں واقع ان کے دفاتر میں مبارکباد پیش کرنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پشتونخوا لائرز یونٹ کے سیکریٹری ایڈوکیٹ شمس کبزئی، ایڈوکیٹ ازمیر خان مندوخیل، ایڈوکیٹ دوست محمد، ایڈوکیٹ عبداللہ شیرانی، ایڈوکیٹ محبوب خان اور دیگر وکلا بھی موجود تھے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے وفد میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز رحمت اللہ صابر، پروفیسر اسد خان ترین، حمد اللہ خان بڑیچ، محمود ریاض جبکہ ضلع ایگزیکٹو کے اراکین ملک فرید کاکڑ، اکبر کلیوال، سید عبداللہ آغا اور دیگر شامل تھے۔ پارٹی وفد نے نومنتخب عہدیداران کو پھولوں کے ہار پہنائے اور ان کی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔ صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے مزید کہا کہ وکلا برادری ہمیشہ ملک میں جمہوری جدوجہد، آمریت کے خلاف مزاحمت اور آئین کے دفاع میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ موجودہ حالات میں بھی وکلا کا یہ کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ غیر آئینی اقدامات کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور اور عوام کو بے اختیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر نومنتخب صدر کوئٹہ بار ایسوسی ایشن ایڈوکیٹ اورنگزیب خان نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری ملک میں جاری غیر آئینی اور غیر جمہوری صورتحال پر خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور جمہوری اقدار کی بحالی وکلا کی اولین ذمہ داری ہے، اور وکلا برادری جلد اس سلسلے میں اپنا متفقہ لائحہ عمل طے کرے گی۔آخر میں دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سیاسی قوتیں اور وکلا برادری مل کر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے، جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
