تحریک تحفظ آئین کا حکومت سے مشروط مذاکرات پر اتفاق، عمران خان سے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری محمود اچکزئی نے لے لی
شفاف الیکشن اور نئے الیکشن کمشنر کی تقرری پر مذکرات ہونگے : اجلاس کا اعلامیہ

اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری لینے کا اعلان کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر اپوزیشن الائنس کا اہم اجلاس تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتحاد کے وائس چئیرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، رہنما بی این پی (مینگل ) ساجد ترین، سیکرٹری جنرل اسد قیصر، وائس چئیرمین مصطفی نواز کھوکھر اور ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن شفاف انتخابات، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کی تقرری، پارلیمانی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ڈائیلاگ پر تیار ہے۔ اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے یاد دہانی کرائی کہ اگر تمام جماعتیں 1973 کے آئین کی بحالی اور سویلین بالادستی پر متفق ہوں تو وہ عمران خان سے دستخط کرانے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اجلاس میں 8 فروری کو عام انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ منانے اور ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔اجلاس میں اپوزیشن کی دو روزہ کامیاب قومی کانفرنس ، ۸ فروری کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں یوم سیاہ منانے اور ہڑتال پر مستقبل کی حکمت عملی کے حوالہ سے تفصیلی مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی دعوت بھی زیرِغور آئی۔
اجلاس میں شرکاء نے اُصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران ، امن او امان اور گورننس کے فقدان سے نکالنے اور عوام میں مایوسی کے خاتمہ کے لئیے ایک نئے میثاق کی اَشد ضرورت ہے۔
نئے میثاق میں اپوزیشن مستقبل میں شفاف انتخابات ، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کی تقرری ، پارلیمانی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق کی پاسداری، آئینی اور جمہوری اقدار کی مظبوطی کے لئیے ڈائیلاگ کے لئیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ تحریک تحفظِ آئین کی نمائندگی کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے سپیکر قومی اسمبلی کی مذاکرات کی دعوت کے جواب میں فلور آف دی ہاؤس پر کہا تھا کہ اگر پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں ۱۹۷۳ کے آئین کی بحالی ، پارلیمانی اور سویلین بالادستی ، اور تمام اداروں کے آئینی حدود سے تجاوز نہ کرنے پر اتفاق کرتی ہیں تو عمران خان کا نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری وہ اُٹھاتے ہیں۔
تحریک تحفظِ آئین کے رہنماؤں نے ۸ فروری کے یوم سیاہ اور سٹریٹ موبئیلایزیشن کو کامیاب بنانے کے حوالہ سے صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر ذیلی کمیٹیاں بنانے کا بھی فیصلہ کیا جن کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
