کرخسہ ریکرییشنل پارک مکمل بند نہیں ہوگا، عوام کیلئے حفاظتی اقدامات سخت کیے جائیں گے: کمشنر کوئٹہ
ڈیم سے آگے جانے پر پابندی، شکار ممنوع اور داخلے کیلئے ایک ہی راستہ ہوگا: امن و امان کے اجلاس میں فیصلہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کرخسہ ریکرییشنل ایریا ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک کی ممکنہ بندش سے متعلق سفارشات پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایس ایس پی آپریشن کیپٹن (ر) آصف خان،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آغا سمیع اللّٰہ،اسسٹنٹ کمشنر پولیٹکل محمد کلیم اور محکمہ جنگلات کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پارک کی بندش یا دیگر حفاظتی اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کے دوران سیکورٹی خدشات، پارک کے وسیع رقبے کو محفوظ رکھنے میں درپیش مشکلات اور عوامی سہولیات خصوصاً واٹر سپلائی کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے گئے شرکاء کو مطلع کیا گیا کہ کرخسہ نیشنل پارک کا رقبہ انتہائی وسیع ہے اور یہ مستونگ تک جا ملتا ہے اس بڑے رقبے پر سکیورٹی فراہم کرنا نہایت مشکل ہے علاوہ ازیں پارک میں واٹر سپلائی کے لیے واسا کے ٹیوب ویلز فعال ہیں پابندی سے واسا کے اہم کام پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے ۔اجلاس سے خطاب میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کرخسہ نیشنل پارک کوئٹہ کے شہریوں کے لیے ایک اہم تفریحی مقام ہے اور شہر میں محدود تفریحی مقامات کے پیشِ نظر اس کی بندش سے عوام محروم ہو جائیں گے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کی حفاظت ہے اور یہی ترجیح ہر صورت ممکن بنائی جائے گی انہوں نے کہا کہ شکار پر عائد پابندی برقرار رہے گی لہذا شکار کی غرض سے لوگ پارک میں داخل نہیں ہو سکتے تفریح اور پکنک کے لیے عوام کو اجازت حاصل ہوگی مگر نئے ضوابط و قواعد کے تحت جو سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیے جائیں گے اور ان پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارک میں موجود حفاظتی انتظامات کو مضبوط کیا جائے گا اور پارک میں داخلے کے لیے صرف ایک مرکزی راستہ مقرر کیا جائے گا۔عوام کو صرف ڈیَم تک جانے کی اجازت ہوگی ڈیَم کے بعد کا علاقہ بند قرار دیا جائے گا اور اس کے بارے میں واضح بورڈز و بینرز نصب کیے جائیں گے محکمہ جنگلات کو متعین کردہ حدود کی نشاندہی اور متعلقہ حفاظتی اقدامات کے فوری نفاذ کی ہدایت دی گئی۔پولیس کو ہدایت دی گئی کہ وہ چیک پوسٹ فعال کرے، گشت میں اضافہ کرے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیپارک انتظامیہ عوام کو متعین شدہ جگہوں تک محدود رکھنے اور مربوط رہنمائی کے لیے بینرز و نشانات نصب کر اخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پارک انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں قوانین کی پابندی کریں اور متعین کردہ حدود کے باہر جانے سے گریز کریں تاکہ عوامی حفاظت اور پارک کی سہولیات دونوں برقرار رہ سکیں۔ اجلاس میں شریک حکام نے بھی عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آئندہ حفاظتی صورتحال کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
