کیچ میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں تشویشناک، ترقیاتی منصوبے بھی نشانہ بن رہے ہیں: ڈاکٹر مالک بلوچ

ریاستی رویہ اور عسکریت پسندی دونوں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، پالیسیوں پر غور کیا جائے: سابق وزیراعلیٰ


تربت(ڈیلی قدرت کوئٹہ)نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ضلع کیچ میں اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور ذمہ دار افراد و کاروباری شخصیات کے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب اغواکار ہمارے بچوں کو اٹھا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ریاست کا موجودہ رویہ بھی بلوچستان کی ترقی کو متاثر کر رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق صوبے میں کئی سڑکیں بننے کے باوجود مسائل کا شکار ہیں، تربت تا منڈ روڈ اس وقت عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے، فنڈز کی موجودگی کے باوجود وہاں روزانہ حملے ہو رہے ہیں۔سابق وزیراعلی نے بتایا کہ گزشتہ روز کولواہ اور ہوشاپ تا آواران سڑک کے منصوبے میں بھی ٹھیکیداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انسِرجنسی کے حالات میں بھی ترقیاتی کام نہیں روکے جاتے تھے اور نہ ہی عام آدمی کو اس طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، جہاں ایک جانب ریاستی طرزِ عمل اور دوسری جانب ملیٹنٹ سرگرمیوں کے باعث ترقی کا عمل رکا ہوا ہے، اس لیے دونوں فریقوں کو اپنی پالیسی اور اسٹریٹجی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert