جعلی مینڈیٹ والوں نے بلوچستان کو معاشی کھنڈر بنا دیا، تاجر بھاگ رہے ہیں، بارڈر ٹریڈ، زراعت اور معدنیات کے تینوں ستون تباہ: مولانا واسع


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جمعیت علماء  اسلام بلوچستان مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ جعلی مینڈیٹ پر مسلط نااہل نمائندوں نے بلوچستان کو عملاً معاشی کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ غلط ترجیحات، ناقص پالیسی سازی، بیحسی اور عدم دلچسپی نے صوبے کی سماجی، معاشی اور تجارتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور آج بلوچستان ایک ہمہ گیر مایوسی، بییقینی اور عدم تحفظ کی تصویر بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال محض لمح? فکریہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ صوبے کے تاجر اپنا کاروبار بلوچستان سے باہر منتقل کرنے پر مجبور ہیں، سرمایہ کار سرمایہ سمیٹ رہے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو چکی ہیں۔ مختلف کاروباری فورمز، چیمبرز اور معاشی مبصرین بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں کاروباری اعتماد خطرناک حد تک متزلزل ہو چکا ہے، مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی بزنس کمیونٹی جو کبھی ترقی اور روزگار کا محور تھی، آج شدید مایوسی اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ روزگار کے مواقع معدوم، تجارت زوال پذیر اور سرمایہ کی ہجرت نے عام شہری سے لے کر سرمایہ کار تک سب کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات سب ایک ناکام اور زوال پذیر طرزِ حکمرانی کی عکاسی کر رہی ہیں، جبکہ حکومتی مشینری محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔امیر جے یو آئی نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت تین بنیادی ستونوں بارڈر ٹریڈ، زراعت اور معدنیات پر استوار تھی، مگر حکومت کی نااہلی، بدانتظامی اور غیر سنجیدہ فیصلوں نے ان تینوں ستونوں کو یکسر منہدم کر دیا ہے۔ صوبے کی تقریباً 53 فیصد آبادی سرحدی اضلاع میں آباد ہے، جن کا معاش براہِ راست بارڈر ٹریڈ سے وابستہ تھا، مگر اچانک اور غیر منصوبہ بند بارڈر بندشوں نے لاکھوں افراد کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا دیا۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار ختم ہو چکا ہے اور سرحدی پٹی آج معاشی قتلِ عام کا منظر پیش کر رہی ہے۔اسی طرح حالیہ برسوں میں آنے والی شدید سیلابی صورتحال نے بلوچستان کی زراعت کو مکمل طور پر اجاڑ کر رکھ دیا۔ کھیت، باغات، مویشی اور زرعی انفراسٹرکچر تباہ ہو گئے، مگر حکومت نے متاثرہ کسانوں کے لیے نہ مؤثر بحالی پروگرام دیا اور نہ ہی طویل المدتی زرعی پالیسی مرتب کی۔ زرعی ماہرین اور غیر سرکاری تحقیقی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر کسانوں کی فوری مدد نہ کی گئی تو صوبہ مستقبل قریب میں شدید غذائی بحران کی طرف جا سکتا ہے۔معدنیات و کانکنی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی معدنی دولت باثر شخصیات کے لیے تو قیمتی ہے مگر مقامی آبادی ہمیشہ اس کے ثمرات سے محروم رکھی گئی۔ کانکن، مزدور اور چھوٹے ٹھیکیدار شدید سکیورٹی خدشات، غیر محفوظ حالات اور حکومتی عدم توجہی کے باعث بدترین مشکلات کا شکار ہیں۔ مختلف مطالعات اور میڈیا رپورٹس اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ کانکنی سے وابستہ علاقوں میں بے روزگاری اور ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے سرکاری ملازمین کی بدحالی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ڈی آر اے اور تنخواہوں میں اضافے کے جھوٹے وعدوں اور تسلیوں کے بعد جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ انتہائی افسوسناک اور ظالمانہ ہے۔ آج ہزاروں سرکاری ملازمین اس کڑاکے کی سردی میں سراپا احتجاج ہیں، مگر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ریاستی نظام کا ستون ہے، مگر اسے دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ملازمین کے مطابق مہنگائی کی حالیہ لہر نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اور بین الاقوامی و ملکی معاشی سرویز بھی اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ بلوچستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد—تاجر، کسان، مزدور، کانکن، سرکاری ملازم اور نوجوان—شدید مایوسی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے آدھے دورِ اقتدار میں عوام کو امید دینے کے بجائے مایوسی، بے یقینی اور معاشی جمود کے سوا کچھ نہیں دیا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال کسی ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی و انتظامی سانحہ ہے۔ اب وقت رسمی بیانات کا نہیں بلکہ عملی، فوری اور فیصلہ کن اقدامات کا ہے۔ حکومت، عدلیہ اور ریاستی ادارے فوری طور پر بارڈر ٹریڈ بحال کریں، متاثرہ کسانوں کے لیے ہنگامی ریلیف ا…

WhatsApp
Get Alert