بلوچستان میں درآمدی چینی کی جبری فروخت، تاجروں پر پابندیاں، عوام مہنگی چینی خریدنے پر مجبور


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی شوگرمل موجود نہیں، اور صوبے کی چینی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے مقامی تاجر پنجاب اور سندھ کی شوگرملز سے چینی لا کر فروخت کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں تاجروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ صرف بیرون ملک سے درآمد شدہ چینی فروخت کریں جبکہ پاکستان میں تیار ہونے والی چینی کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو مہنگی چینی دستیاب ہو رہی ہے۔انجمن تاجران کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کی درآمد شدہ چینی کی نئی پالیسی نے مقامی تاجروں کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ محکمہ صنعت کی جانب سے شوگر ڈیلرز کو صرف TCP کی درآمد شدہ چینی کی ترسیل اور فروخت کی ہدایات دی جا رہی ہیں جبکہ پاکستانی شوگرملز سے چینی کی ترسیل کے لیے این او سی کا اجرا ستمبر 2025 سے بند ہے۔صدر انجمن تاجران نے بتایا کہ TCP کی درآمد شدہ چینی کی قیمت تقریبا 175 روپے فی کلو ہے جبکہ پاکستان میں تیار ہونے والی چینی کی ایکس مل قیمت تقریبا 140 روپے فی کلو ہے، جس سے فی کلو 40 روپے کا فرق پیدا ہوا ہے۔ فی ٹرک 800 بوری چینی کی قیمت میں 17 لاکھ روپے کا فرق پڑ رہا ہے، جس کے باعث بلوچستان کے عوام مہنگی چینی پر مجبور ہیں۔عبدالرحیم کاکڑ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی شوگر ملز کی چینی کی فروخت کی اجازت دی جائے تاکہ عوام کو سستی اور معیاری چینی مہیا کی جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert