بلوچستان کابینہ کا بڑا فیصلہ: طلباء اور ملازمین کو سستی الیکٹرک بائیکس ملیں گی، ہیلتھ انشورنس اسکیم کی بھی منظوری


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 21 واں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں کے آغاز پر صوبائی کابینہ نے اظہارِ تشکر کیا۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ نے الیکٹرک بائیکس اسکیم عام آدمی کے لیے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جس کے تحت طلباء، ورکنگ ویمن اور سرکاری ملازمین کو 30 فیصد سبسڈی پر سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ عام شہریوں کو بھی آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی اور بنک فنانسنگ کے تحت اسکیم پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
کابینہ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ لگ بھگ ڈھائی لاکھ صوبائی سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں جس پر صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پیشگی میڈیکل ادائیگیوں اور عوامی انڈومنٹ فنڈ کے آڈٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
صوبائی کابینہ نے انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کی گوادر، کیچ اور آواران تک توسیع کی منظوری دے دی۔ میرٹوکریسی کے فروغ کے لیے کابینہ نے میرٹ پر تعیناتیوں پر اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے لئے مواصلاتی و تعلیمی منصوبوں کے لئے تعاون پر وزیر اعظم کے مشکور ہیں، الیکٹرک بائیکس تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے افراد کو آسان اقساط پر دی جائیں گی۔
عام آدمی کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل عوام کی امانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا عام غریب آدمی مشکلات جھیلے اور وسائل کا بڑا حصہ مخصوص طبقے پر خرچ ہو یہ ناانصافی ہے، سرکاری ملازمین کے علاج معالجے کے لیے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں اور انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام سے بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو معاشی استحکام کا راستہ دکھائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گڈ گورننس کا قیام میرٹوکریسی سے مشروط ہے، بلوچستان کابینہ نے میرٹ کے فروغ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے اور عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert