کوئٹہ کی پشتون حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں مسترد، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا نئے اضلاع اور ڈویژنز کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں پشتون بلوچ صوبے میں نئے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام سے متعلق صوبائی کابینہ کے پشتون دشمن فیصلوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری 1975 میں کوئٹہ سے پشین کو الگ کرنے کے پشتون دشمن فیصلے کے خلاف پشتونخوا نیپ اور پشتون عوام کی مؤثر احتجاجی تحریک کے نتیجے میں کوئٹہ کے گورنر ہاؤس میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں پشتون اور بلوچ رہنماؤں کے مابین کوئٹہ کی تاریخی پشتون قومی حیثیت پر تفصیلی مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے باقاعدہ طور پر ایک رسمی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ کوئٹہ میں جنوب مغرب سے کوئی علاقہ شامل نہیں کیا جائے گا اور پشتونوں کی قومی اکثریت کو تبدیل کرنے کا کوئی اقدام نہیں ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 1970 میں تاریخی پشتون افغان سرزمین، جنوبی پشتونخوا، پر بلوچستان کا غیر فطری نام مسلط کیے جانے کے بعد بردار بلوچ قوم کے قابض قوتوں نے کوئٹہ اور سبی کی پشتون قومی حیثیت کو تبدیل کرنے کی غرض سے مسلسل پشتون دشمن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہرنائی کو سبی سے علیحدہ کرنا، لہڑی کو سبی میں شامل کرنا، کوئٹہ میں زبردستی بلدیاتی حلقے مسلط کرنا، بلوچ علاقوں میں اضلاع اور ڈویژنز کی تعداد دوچند کرنا اور اس کے برعکس پشتون علاقوں کے اضلاع اور ڈویژنز کو محدود رکھنا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک بار پھر مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا اور بارکھان کو ایک نئے، بے بنیاد ڈویژن میں ضم کرنا دراصل پشتون علاقوں پر قبضہ جمانے اور پشتونوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش ہے۔ مرکزی سیکرٹریٹ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پشتون اپنی تاریخی سرزمین کے اصل مالک ہیں، جس پر انگریز استعمار نے افغان دشمنی کی بنیاد پر “برٹش بلوچستان” کا گمراہ کن اور غیر فطری نام مسلط کیا، اور بعد ازاں پنجابی استعمار نے اسی سرزمین پر “بلوچستان” کا غیر فطری نام نافذ کیا۔ پشتونوں نے ہمیشہ مشترکہ پشتون بلوچ دو قومی صوبے میں قومی برابری اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر یہ امر افسوسناک ہے کہ بردار بلوچ قوم کے قابض گروہوں نے بالادستی اور قبضہ گیری کے ناروا اقدامات کو فروغ دیا ہے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں صوبے کے پشتون اپنے تاریخی وطن اور قومی وجود کے دفاع کے لیے سخت اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
