بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ: 1054 نئے کیسز کی منظوری، 2.72 ارب روپے کی لاگت، شفافیت اور عوامی خدمت کو یقینی بنانے پر زور

پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے بورڈ کا 24واں اجلاس منعقد ہوا


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے بورڈ کا 24واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریشی، ایڈیشنل سیکرٹری صحت شہق بلوچ، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی ایڈیشنل سیکرٹری روحانہ کاکڑ، ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر سوشل ویلفیئر اشرف گچکی، پروگرام ڈائریکٹر بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ ثمینہ احسان بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عنایت اللہ کاسی، محکمہ خزانہ کے بشیر احمد، ڈاکٹر زاہد محمود، ڈاکٹر فیروز اچکزئی، ثناء درانی، ضیا خان سمیت مختلف محکموں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں پروگرام ڈائریکٹر ثمینہ احسان بلوچ نے شرکاء کو بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے تحت کینسر، امراضِ قلب، امپلانٹ اور لِمب سیونگ ٹریٹمنٹ، گردوں کے آخری اسٹیج اور ڈائیلاسز، یرقان، جگر کی پیوندکاری، تھیلیسیمیا اور کوکلیئر امپلانٹ سمیت دیگر بیماریوں کے سابقہ کیسز اور پینل پر موجود ہسپتالوں کے دوروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ بورڈ اجلاس میں 404 کیسز کی منظوری دی گئی تھی، جن پر مجموعی طور پر 930 ملین روپے کی لاگت آئی۔ ان میں سے 321 مریضوں کے علاج پر 269 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 83 کیسز پر علاج جاری ہے۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مزید 1054 نئے کیسز موصول ہوئے ہیں جن پر 2 ارب 72 کروڑ 4 لاکھ 76 ہزار 386 روپے لاگت آئے گی، جس کی بورڈ نے منظوری دے دی۔

بتایا گیا کہ پینل پر موجود ہسپتالوں کے پاس عوامی انڈومنٹ فنڈ کی مد میں 520 ملین روپے موجود تھے، جو وصول کر لیے گئے ہیں۔ ان میں سے 242 ملین روپے مختلف کیسز میں ایڈجسٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ بقایا رقم کو بھی منظوری کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 200 ملین روپے کی ادویات کی خریداری مکمل کر لی گئی ہے اور اس وقت مستفید ہونے والے مریضوں کی تعداد 492 تک پہنچ گئی ہے۔
تاہم مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مزید 200 ملین روپے کی ادویات کی خریداری کی ضرورت ہے، جس کی بورڈ نے منظوری دے دی۔ اجلاس میں آریا ہسپتال کو پینل میں شامل کرنے کے لیے پروگرام ڈائریکٹر کو ورکنگ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے طریقۂ کار کو مزید شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صوبے کا واحد منصوبہ ہے جس کے تحت غریب عوام کو مہنگا علاج بالکل مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جنہوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ انسانی صحت سب سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں ذاتی تعلقات اور رشتوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں موجود رقم عوام کی امانت ہے اور اس کا شفاف اور درست استعمال ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔

WhatsApp
Get Alert