دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائد عوام کی حمایت حاصل نہیں, بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں اس کا صرف عسکری حل ہے: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں اس کا صرف عسکری حل ہے۔دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائدعوام کی حمایت حاصل نہیں۔
’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ 2018 سے پہلے ریاست کی پالیسی مصالحت کی نہیں تھی، دہشت گردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا، دوران جنگ ہر طبقہ فکر کو ریاست کے ساتھ کھڑ ے ہونا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کے بعدسب سے بڑی دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے، نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی وعسکری قیادت میں اتفاق رائے تھا۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو 2 یا 3 فیصد سے زائدعوام کی حمایت حاصل نہیں، دہشت گرد جب بھی شہروں میں کارروائی کرتے ہیں توانسانوں کو ڈھال بنالیتے ہیں۔ ایک سال کے دوران ہزاردہشت گرد انٹیلی جنس بیسڈرکارروائیوں میں مارے گئے، بلوچستان میں دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی تعداد 4 یا5 ہزار سے زیادہ نہیں۔
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئےوزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 بھی نہیں تھی۔شعبان اورپنجگور میں حملوں سے متعلق خفیہ معلومات تھیں، حملوں میں 31 شہری اور17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، نوشکی میں کومبنگ آپریشن اب بھی جاری ہے۔عالمی میڈیا سے درخواست ہے کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہیں، افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert