بلوچ بیلٹ اور جنوبی پشتونخوا کے مرکز کوئٹہ میں خونی واقعات پنجابی استعماریت اور نوآبادیاتی پالیسیوں کا شاخسانہ ہیں، پشتونخوا وطن کو فریقین کی مسلح جنگ کا ایندھن نہیں بننے دیں گے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی اعلامیے میں صوبے کے بلوچ بیلٹ اور جنوبی پشتونخوا کے مرکز کوئٹہ میں رونما ہونے والے حالیہ پُرتشدد، ہولناک اور خونریز واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے اصولی اور نظریاتی موقف کو نہایت تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوا نیپ محض ایک سیاسی گروہ نہیں بلکہ پشتون افغان قومی سیاسی تحریک کی وارث اور ایک منظم قومی جمہوری قوت ہے، جس کی پوری تاریخ استعماری جبر کے خلاف مزاحمت، جمہوریت کی بحالی، سماجی انصاف کی فراہمی اور امن و ترقی کے پُرافتخار سفر سے عبارت ہے۔ پارٹی کے قائدین اور کارکنوں نے ہر دور میں آمریت اور قومی محکومی کے خلاف صفِ اول کا کردار ادا کرتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پارٹی محکوم قوموں اور مظلوم طبقوں کو استعماری بیڑیوں سے نجات دلانے کے لیے ہر اس جدوجہد کی حمایت کرتی ہے جو انصاف اور حقِ حاکمیت پر مبنی ہو۔ ہم ہر قوم کے اپنے مخصوص معروضی حالات کے مطابق جدوجہد کی ہر شکل کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، تاہم پشتونخوا نیپ نے اپنے اصولی و فکری نظریات کی روشنی میں پشتون افغان ملت کو قومی محکومی اور معاشی استحصال سے نکالنے کے لیے پُرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد کا راستہ منتخب کیا ہے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ محکوم قوموں کی جمہوری تحریکوں کے لیے پُرامن سیاسی راستہ ہی طویل المدتی اور پائیدار نتائج کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔
بیان میں حالیہ بدامنی کے اسباب کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچ علاقوں اور جنوبی پشتونخوا کے مرکز کوئٹہ میں فورسز، سرکاری تنصیبات اور عوامی املاک پر ہونے والے تباہ کن حملوں کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست اس ملک کے استعماری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس خطے میں تشدد، بارود اور خونریزی کے تمام واقعات دراصل “پنجابی استعماری ریاست” کی جانب سے مسلط کردہ نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی، وسائل کی لوٹ مار اور عوام دشمن پالیسیوں کا ایک منطقی اور فطری نتیجہ ہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے انہیں دیوار سے لگا دیتی ہے، تو اس طرح کے ردعمل کا پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
پشتونخوا نیپ نے ملک میں جاری بحران کا دائمی حل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکمران واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں اپنی استعماری اور جابرانہ پالیسیوں کو فوراً دفن کرنا ہوگا۔ اس کا واحد حل ایک نئے “عمرانی معاہدے” کی تشکیل میں پوشیدہ ہے جو 1940 کی تاریخی قرارداد کی اصل روح کے عین مطابق ہو۔ ایک ایسی جمہوری فیڈریشن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے جس میں پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی اپنی اپنی تاریخی اور جغرافیائی وحدتوں پر مکمل بااختیار، خودمختار اور مقتدر ہوں۔ جب تک قوموں اور عوام کو ان کے تمام جمہوری، سیاسی اور معاشی اختیارات حاصل نہیں ہوں گے، تب تک تشدد، احساسِ محرومی اور خونریزی کے سیاہ سائے منڈلاتے رہیں گے۔
بیان میں اس تشویشناک صورتحال پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ حالیہ پُرتشدد لہر کا دائرہ بلوچ علاقوں سے بڑھا کر جنوبی پشتونخوا کے پشتون اضلاع، بالخصوص کوئٹہ تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اس خطرناک رجحان کی وجہ سے پشتون عوام کی جان، مال، عزت اور پُرامن زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پشتونخوا نیپ نے فریقین کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلح اقدامات اور جنگی مہم جوئی کے لیے ہمارے پُرامن وطن اور پشتونخوا کی سرزمین کو اپنا “مورچہ” بنانے سے گریز کریں۔ پشتون عوام پہلے ہی دہائیوں سے مسلط کردہ جنگوں کی وجہ سے برباد ہو چکے ہیں اور اب مزید کسی مسلح تصادم کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
آخر میں بیان میں پشتونخوا وطن کے غیور عوام، نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے مادرِ وطن کے دفاع، قومی حقوق کے تحفظ اور دیرپا امن کی خاطر مکمل طور پر متحد اور منظم ہو جائیں۔ موجودہ کڑے حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں تاکہ کوئی بھی بیرونی یا اندرونی قوت ہماری سرزمین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

WhatsApp
Get Alert