آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاکستان سیمی فائنل میں کیسے جاسکتا ہے؟ سابق کھلاڑیوں نے بتادیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان کو منگل کے دن انگلینڈ سے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں شکست کے بعد کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کرکٹ شائقین اب یہ بھی سوال کررہے ہیں کہ کیا پاکستان ٹیم اب بھی سیمی فائنلز میں جا سکتی ہے یا نہیں؟
منگل کی رات جیسے ہی پاکستانی ٹیم انگلینڈ سے ہاری تو سابق کھلاڑی جو مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر موجود تھے انھوں نے تنقید شروع کر دی اور سوالات اٹھائے کہ کیا ٹیم مینجمنٹ نے صحیح 11 کھلاڑی کھلائے تھے یا نہیں؟
اسپنر ابرار احمد کو باہر رکھنے پر بھی کافی تنقید ہوئی اور اس بات پر بھی سابق کھلاڑی اور شائقین نالاں ہیں کہ صائم ایوب اور بابر اعظم کو مستقل پرفارم نہ کرنے پر بھی کھلایا جا رہا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک ہی صورت میں سیمی فائنل میں اب بھی جگہ بنا سکتا ہے کہ پہلے تو وہ اپنے آخری میچ میں 28 فروری کو سری لنکا کو شکست دے اور اس کے علاوہ یہ امید کرے کہ نیوزی لینڈ اپنے باقی کے دونوں میچ سری لنکا اور انگلینڈ سے ہار جائیں۔
پاکستان کی ٹیم کے پاس اس وقت صرف ایک پوائنٹ ہے اور اگر وہ سری لنکا کو شکست دیتے ہیں تو ان کے تین پوائنٹ ہوجائیں گے اور اگر نیوزی لینڈ ٹیم دونوں میچ ہار جاتی ہے تو نیوزی لینڈ کا ایک پوائنٹ ہوگا اور سری لنکا کے دو پوائنٹ ہوں گے اور اس طرح سے پاکستان تین پوائنٹ کے ساتھ سیمی فائنل میں جاسکتا ہے۔
پاکستان ٹیم کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ نیٹ رن ریٹ کی ان کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انگلینڈ نے پاکستان کو ہرا کر پہلے سے ہی سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنالی ہے۔
سابق کھلاڑیوں نے پاکستان کی شکست کے لیے کئی وجوہات بتائیں جن میں کپتان کے غلط فیصلے اور دوسرا ہیری بروک کے شاندار سو رنز۔ سابق کپتان محمد حفیظ نے ٹیم مینجمنٹ کا ابرار احمد کو نظر انداز کرنا کیونکہ وہ شہزاد خان کو ٹیم میں رکھنا چاہتے ہیں کو بھی غلط قرار دیا۔
محمد یوسف نے کہا کہ ہری گروپ ایک شاندار اننگز کھیل گئے جبکہ محمد عامر عماد وسیم کا کہنا تھا کہ کپتان نے عثمان طارق کو صحیح وقت پر اوورز نہیں دیے۔

WhatsApp
Get Alert