میر علی حسن زہری کا غصہ ذاتی انا نہیں، حب کے محروم نوجوانوں کے روزگار کی تڑپ ہے، چیف سیکرٹری کے خلاف الفاظ پر معذرت کے ساتھ اصل حقائق سامنے لانا ضروری ہے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک اہم وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ دن قبل ان کے شوہر میر علی حسن زہری نے چیف سیکرٹری بلوچستان کے لیے غصے میں جو الفاظ کہے وہ مناسب نہیں تھے، تاہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس نہج تک بات کیسے پہنچی؛ ان کے جذبات کی جڑ حب کے وہ پسماندہ نوجوان اور بچیاں ہیں جو میرٹ پر نوکری کے حقدار ہیں اور جنہیں وہ بغیر کسی سفارش یا مالی دباؤ کے باعزت روزگار دلوانا چاہتے تھے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پاک فوج سرحدوں پر جانیں قربان کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے بعض انتظامی اہلکار اپنے عہدوں کے غرور میں نوجوانوں کے مستقبل کو نظرانداز کر کے انہیں مایوسی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے پی بی-21 حب کے حوالے سے دوسری بار ری کاؤنٹنگ کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ریٹرننگ آفیسر (RO) نے دروازے کو باقاعدہ سیل کر دیا ہے اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے انہیں تصویر بھیج کر حق اور قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے؛ جس پر وہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حب کی دوبارہ تعیناتی پر وزیراعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے بھوتانی برادران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں اور انتخابی مواد میں مداخلت کے ذریعے عوامی مینڈیٹ دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایسی کسی بھی غیر قانونی کوشش کو آئین و قانون کے مطابق ناکام بنایا جائے گا اور عوامی حقِ رائے دہی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
