کرپشن دہشت گردی سے بڑا کینسر، سرکاری تنخواہ لے کر ریاست مخالف ایجنڈا چلانے والوں کی چھٹی ہوگی، 3200 بند اسکول فعال کر دیے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نجی ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صوبے کی تقدیر بدلنے کے لیے انقلابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کا اصل دارومدار امن اور میرٹ پر ہے؛ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ “کرپشن” ہے اور انہوں نے سرکاری نوکریاں بیچنے کی روایت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ محکمہ داخلہ میں ایک خصوصی اینٹی سب ورژن سیل قائم کیا گیا ہے جو ان سرکاری ملازمین، ڈاکٹروں اور پروفیسروں کی نشاندہی کرے گا جو ریاست سے تنخواہیں لے کر دشمن کا ایجنڈا چلاتے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ مسنگ پرسنز کے حساس معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اب ہائی کورٹ کے ججز کی نگرانی میں چار ماہ کی تحقیقات کا قانونی طریقہ کار بنا دیا گیا ہے جس سے یہ مسئلہ مستقل حل ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے تعلیمی میدان میں بڑی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میرٹ پر 12 ہزار اساتذہ کی بھرتی سے صوبے کے 3200 بند اسکول دوبارہ کھول دیے گئے ہیں اور اگلے دو تین ماہ میں کوئی بھی اسکول بند نہیں رہے گا؛ اسی طرح صحت کے شعبے میں 164 بی ایچ یوز کو فعال کر کے دور دراز علاقوں میں جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ریکوڈک منصوبے کو صوبے کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بلوچستان کا 25 فیصد حصہ ہے، جبکہ گوادر میں 66 ارب روپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ سرفراز بگٹی نے پنجاب کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب نے بڑے بھائی کا ثبوت دیتے ہوئے بلوچستان کے لیے اپنا حصہ چھوڑا ہے؛ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل کوئی بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد کر رہے ہیں اور ریاست دشمن عناصر کو ہر صورت شکست دی جائے گی۔
