ایران پر حملہ آزاد ریاست پر دہشت گردی ہے، پالیسی واضح نہ کی تو دنیا میں ہم اکیلے رہ جائیں گے، محمود خان اچکزئی


اسلام آباد،کوئٹہ(ڈیلی قدرت نیوز) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس جس سے صدر پاکستان نے خطاب کیاکہ بعد گیلری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسیاں واضع نہیں ہونگی تو پھر ہم ایسے اکیلے مارے جائینگے کہ دنیا میں ہمارا کوئی ساتھی نہیں ہوگا۔ ایران اور اس کے مخالفین کی جنگ میں ہم کیوں واضح لائن نہیں لیتے؟ سیدھی سادی بات ہے ایران پرامریکہ اور نیتن یاہو کا دہشت گردانہ حملہ ہے۔جب ایک ملک کا صدر یہ کہے کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم فلاں بزرگ اور فلاں بزرگ کو ماریں گے تو دنیا کہاں چلی جائے گی؟ ایسا ہوتا رہا پھر تو اپ کے پیچھے بھی لوگ آئیں گے وہ آپ کے ساتھ دہشت گردی کریں گے خدانخواستہ کچھ کر دیں گے۔ ہمارے حکمرانوں کا ان حالات میں اس قسم کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں بلائیں گول میز کانفرنس اور ہمیں پالیسی پہ بریفنگ دیں ہمیں آئی ایس آئی بریفنگ دیں جن کی معلومات ہو وہ ہمیں بریفنگ دے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چین اور روس کا کیا کام ہے لیکن ان دونوں ممالک نے واضح الفاظ میں ایک بزرگ آدمی کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست پر دہشت گرد انہ حملہ ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے ہمسائے پہ حملہ ہے اور ہم خاموش رہیں تو کل جب ہمارے اوپر حملہ ہوگا کون ہمارا ساتھ دے گا؟ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم یہاں اجلاس میں شور نہیں کرنا چاہتے تھے،ہم چاہتے تھے کہ ہم باتیں کریں صدر بھی سنتا لوگ بھی سن لیتے سفارت کار بھی سن لیتے۔ ہمارے پارلیمنٹ کو قرارداد منظور کر لینی چاہیے تھی جس میں واضح طور پر ٹرمپ اور نیتن یاھو کو ذمہ دار گردانہ جاتا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر آزاد ملکوں پر حملے کرتے ہیں ان کے اکابرین کو قتل کرتے ہیں یہ غلط روایت ہے۔ برطانیہ بھی اس ایکشن میں شامل ہو گیا ہے اس نے اپنے ہوائی اڈے دینے کا اعلان کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف اگر اسے استعمال کیا جاتا ہے تو برطانیہ کی اجازت ہے تو پھر یہ اگر غلطی ہوئی اس میں آہستہ آہستہ مزید ممالک شامل ہوتے رہیں گے پھر خدانخواستہ جنگ عظیم چھڑ جائے گی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب امریکی صدر مذاکرات کر رہا تھا مذاکرات کے دوران اتنے بڑے جہاز جمع ہو رہے تھے نہ او آئی سی OIC نے میٹنگ بلائی نہ ہمارے ہمسائیوں نے میٹنگ بلائی کہ یہ آخر کیا ہو رہا ہے۔عام آدمی سمجھ رہا تھا کہ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ ایران پہ حملہ ہونے جارہا ہے۔ ٹرمپ صاحب امریکہ کے صدر ہیں وہ کوئی سٹریٹ فائٹر نہیں ہے ملک کے صدر ہیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم نے ایران کے میزائل ختم کرنے ہیں اور ایران کے تمام نیوی کو ختم کرنا ہے۔یہ کہاں کا طریقہ ہے؟ یہ کیا اپروچ ہے؟ جب ایٹم بم بن رہے تھے اور جن ممالک کے ذریعے مذاکرات ہو رہے تھے تو ان کے وزرا خارجہ نے کہا کہ ایران اس پہ راضی ہو گیا تھا کہ ہم یورینیم بالکل آخری حد تک لانے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایران پہ حملہ کرنا تھا کرلیا۔ اس بارے میں اگر ہماری پالیسی واضح نہیں ہوگی پھر ہم ایسے اکیلے مارے جائیں گے کہ دنیا میں کوئی ہمارا ساتھی نہیں ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert