اکیڈمیوں کو بیوروکریسی کے کنٹرول میں لانا فکری آزادی پر شب خون ہے، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کا ریجنل لینگویجز بل کی مذمت اور احتجاج کا اعلان

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں صوبے میں بولی جانیوالی قومی زبانوں پشتو بلوچی براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں کو حکومت کی جانب سے اسے بیوروکریٹک کنٹرول میں لانے کی کسی بھی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ادارے زبان ثقافت تاریخ اور جغرافیہ کے فروغ میں دہائیوں سے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ان اداروں کو انتظامی کنٹرول میں لانا دراصل ان کی فکری آزادی اور علمی روح کو ختم کرنے کے مترادف ہوگابیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اکیڈمیاں “سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860” کے تحت رجسٹرڈ خودمختار ادارے ہیں اور ان کی خودمختاری پر کسی قسم کی قدغن قابلِ قبول نہیں پشتو بلوچی براہوی اور ہزارگی زبانیں ہماری ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثہ ہیں اس لیے ان زبانوں کے فروغ کے لیے قائم اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا جانا چاہیے عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہیکہ ان اکیڈمیوں کے معاملات اہلِ قلم ادیبوں اور دانشوروں کے سپرد ہی رہنے چاہئیں کیونکہ علمی و تحقیقی کام کبھی بھی محض انتظامی احکامات کے تابع نہیں رہ سکتے ان اداروں کی دہائیوں پرمحیط علمی و ادبی خدمات اور کاوشیں قابلِ تحسین ہیں بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ان اداروں کی خودمختاری کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو عوامی نیشنل پارٹی ہر جمہوری اور قانونی فورم پر اس علمی و ادبی ورثے کے تحفظ کے لیے تمام قوم دوست مترقی جمہوری قوتوں اہل قلم ودانش کیساتھ ملکر بھر پور آواز اٹھائے گی۔
