بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: 4 روزہ ورکنگ ویک نافذ، ججز اور افسران کی تنخواہوں میں کٹوتی، پٹرول اور پیپر کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی منظوری

کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ میں قومی عدالتی (پالیسی سازی) کمیٹی (NIPMC) کے زوم اجلاس کے بعد چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی صدارت میں آل ججز اجلاس منعقد ہوا جس میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سات نکاتی ایجنڈے کی متفقہ طور پر توثیق کرتے ہوئے عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور توانائی کی بچت کے لیے متعدد تاریخی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے؛ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ ہوگا جس کے تحت پیر سے جمعرات تک معمول کا کام جاری رہے گا جبکہ جمعہ کے روز صرف ہنگامی مقدمات کی سماعت ہوگی اور عملہ روٹیشنل بنیادوں پر جمعہ و ہفتہ کو حاضر ہوگا، جبکہ ضلعی عدالتوں میں بھی باقاعدہ مقدمات پیر سے جمعرات تک سنے جائیں گے اور جمعہ و ہفتہ کو صرف ریمانڈ، ضمانت اور ہیبیس کارپس جیسی ہنگامی درخواستوں کی سماعت ہوگی؛ اخراجات میں کمی کے لیے ہائی کورٹ کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے پٹرول (POL) اور پیپر کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ ضلعی عدالتوں میں پہلے مرحلے میں 30 فیصد اور بعد ازاں 50 فیصد کمی نافذ ہوگی؛ اجلاس میں رضاکارانہ طور پر تنخواہ کٹوتی کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کے تحت بی ایس-20 یا اس سے اوپر کے وہ افسران اور ججز جن کی تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی دو دن کی بنیادی تنخواہ بطور کٹوتی لی جائے گی؛ مزید برآں عدالتی نظام کو جدید بنانے کے لیے تمام سیشن ڈویژنز میں دو ہفتوں کے اندر ای-کورٹ کی سہولت نصب کی جائے گی تاکہ وکلاء اور فریقین ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کر سکیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کا نصف عملہ بھی روٹیشنل بنیادوں پر ڈیوٹی انجام دے گا تاکہ آمدورفت کے اخراجات کم ہوں، معزز ججز نے ان اقدامات کو ذمہ دارانہ حکمرانی اور توانائی کی بچت کے قومی عزم کے ساتھ مکمل یکجہتی قرار دیا ہے۔
