خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی بوچھاڑ، 4391 میزائل اور ڈرون داغے گئے، عالمی معیشت کی شہ رگ خطرے میں

اسرائیل پر صرف 17 فیصد حملے، اصل نشانہ خلیجی عرب ممالک، متحدہ عرب امارات پر سب سے زیادہ 2156 حملے، سعودی عرب اور کویت کا دفاعی نظام الرٹ، ایس پی اے کی رپورٹ


ریاض (قدرت روزنامہ)سعودی خبررساں ادارے (SPA) نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال پر ایک لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق 28 فروری 2026 سے اب تک خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب تک داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی مجموعی تعداد 4,391 تک پہنچ چکی ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، ایران کی جانب سے براہِ راست اسرائیل کو نشانہ بنانے والے حملوں کی تعداد 930 رہی، جو کہ مجموعی حملوں کا محض 17 فیصد بنتی ہے، جبکہ بقیہ تمام تر طاقت کا رخ خلیجی عرب ممالک کی جانب رہا۔ ان حملوں میں اہم تنصیبات اور شہری سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جسے بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
کس ملک پر کتنے حملے ہوئے؟
رپورٹ میں حملوں کی شدت اور تسلسل کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے:
متحدہ عرب امارات: سب سے زیادہ 2,156 میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کویت: 791 حملے کیے گئے۔
سعودی عرب: اب تک 723 میزائل اور ڈرون داغے جا چکے ہیں۔
بحرین: 429 حملوں کا نشانہ بنا۔
قطر: 270 حملے ہوئے۔
عمان: 22 حملوں کی اطلاع موصول ہوئی۔
مضبوط دفاعی حصار اور عالمی اثرات
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے جدید فضائی دفاعی نظاموں نے ان خطرات کو ناکام بنانے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اور خود کو خطے کے لیے ایک مضبوط دفاعی حصار ثابت کیا ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عالمی معیشت کی شہ رگ اور توانائی کی بین الاقوامی سپلائی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، کیونکہ یہ خطہ دنیا بھر کے لیے ایندھن کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ خلیجی ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert