عمران خان کے بیٹے کا اقوامِ متحدہ میں دہائی، جی ایس پی پلس پر گفتگو، خواجہ آصف کا سخت ردِعمل
قاسم خان کا 47 ممالک کے سامنے والد اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ، یورپی یونین کے معاہدوں پر عملدرآمد پر زور، "بیٹے اتنے ہی فکرمند ہیں تو پاکستان کیوں نہیں آتے؟" وزیرِ دفاع کا سوال

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خطاب اور پاکستان کو حاصل یورپی یونین کی تجارتی رعایت (GSP+) پر دیے گئے بیان نے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے قاسم خان کو پاکستان آنے کا چیلنج دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قاسم خان نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد عمران خان سمیت پاکستان کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی مکمل حمایت کرتے ہیں کیونکہ عوام کو رہنماؤں کے اقدامات کی سزا نہیں ملنی چاہیے، تاہم انہوں نے حکومت کو یاد دلایا کہ اسے انسانی حقوق اور تشدد کے خلاف عالمی کنونشنز سمیت 27 معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔
خواجہ آصف کا جوابی وار
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قاسم خان کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر بیٹے واقعی اپنے والد کے لیے اتنے فکرمند ہیں تو انہیں عالمی فورمز پر جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی منسوخی کے لیے لابنگ کرنے (یا اس پر بات کرنے) کے بجائے اپنی محبت کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ خواجہ آصف نے لکھا کہ “انہیں پاکستان آ کر اپنے والد سے ملاقات کرنی چاہیے۔”
جی ایس پی پلس کی اہمیت
واضح رہے کہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت پاکستان کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جو پاکستان کی معیشت اور برآمدات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان 2014 سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہا ہے، تاہم اس کے تسلسل کے لیے انسانی حقوق، میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ جیسے 27 عالمی کنونشنز پر عملدرآمد لازمی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، قاسم خان کا عالمی فورم پر یہ خطاب حکومت کے لیے سفارتی سطح پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ حکومتی وزراء اسے ملک کے خلاف لابنگ قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس معاملے پر دو حصوں میں تقسیم نظر آ رہے ہیں۔
