بلوچستان میں صحت کا نیا نظام، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا ‘سفارشی کلچر’ کے خلاف بڑا اعلان: بھرتیاں اب صرف میرٹ پر ہوں گی، ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے دور دراز علاقوں میں علاج کی بڑی خوشخبری!
بلوچستان میں ٹیلی ہیلتھ کا انقلاب: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا دور دراز علاقوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کا حکم ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے ہسپتالوں میں میرٹ پر بھرتیوں کی ہدایت، سیاسی و انتظامی دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا، بنیادی مراکزِ صحت کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح، اعلیٰ سطح اجلاس کی تفصیلات

کوئٹہ (26 مارچ 2026) (ڈیلی قدرت نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے دور دراز علاقوں میں معیاری طبی سہولیات پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور میرٹ کی بالادستی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کوئٹہ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کے دوران، انہوں نے ٹیلی ہیلتھ (Telehealth) کے نظام کو مزید فعال بنانے اور اپر ڈیرہ بگٹی میں عوامی ماڈل ہیلتھ پلان پر فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ، چیف سیکریٹری شکیل قادر خان، اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء کو صوبے میں ٹیلی ہیلتھ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور ماڈل ہیلتھ ڈسٹرکٹ کے قیام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے اہم فیصلے اور ہدایات:
میرٹ کی بالادستی: وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اپر ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے ہسپتالوں میں عملے کی بھرتی صرف اور صرف میرٹ پر ہوگی۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ اس عمل میں کسی بھی قسم کا سیاسی یا انتظامی دباؤ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

ٹیلی ہیلتھ کی توسیع: جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان علاقوں تک پہنچنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی رسائی مشکل ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک مضبوط مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ خدمات میں شفافیت برقرار رہے۔
بنیادی مراکزِ صحت (BHUs): سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح عوام کو ان کی دہلیز پر علاج فراہم کرنا ہے۔ بنیادی مراکزِ صحت کی حالت زار بہتر بنا کر بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
باچا خان میموریل ہسپتال: کوئٹہ کی زرغون ہاؤسنگ اسکیم میں قائم اس ہسپتال کے انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ ضلعی سطح پر طبی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کیا جائے تاکہ بلوچستان کا ہر شہری، چاہے وہ کتنا ہی دور کیوں نہ رہتا ہو، بہتر علاج کا حق پا سکے۔
