ایم کیو ایم کا بڑا سرپرائز ، 28ویں آئینی ترمیم لانے کا مطالبہ: وزیراعظم سے ملاقات کی سنسنی خیز اندرونی کہانی، گورنر سندھ کی تبدیلی پر فاروق ستار کے تحفظات، کیا کراچی کو نیا نظام ملنے والا ہے؟

کراچی کے حقوق اور بلدیاتی نظام کیلئے ایم کیو ایم کا بڑا مطالبہ: 28ویں آئینی ترمیم لانے پر اصرار وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم وفد کی اہم ملاقات، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کیلئے آئینی ترمیم ناگزیر قرار، گورنر سندھ نہال ہاشمی کی موجودگی میں کامران ٹیسوری کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار


اسلام آباد (26 مارچ 2026) (ڈیلی قدرت نیوز) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچاتے ہوئے وفاقی حکومت سے 28ویں آئینی ترمیم لانے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، جس میں کراچی کے مسائل اور بلدیاتی اختیارات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس اہم بیٹھک میں ایم کیو ایم کی جانب سے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور سابق گورنر کامران ٹیسوری شریک تھے۔ حکومتی ٹیم میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناء اللہ اور موجودہ گورنر سندھ نہال ہاشمی موجود تھے۔
ملاقات کے اہم نکات اور مطالبات:
28ویں آئینی ترمیم: ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومتوں (Local Governments) کو مالیاتی اور انتظامی طور پر بااختیار بنانے کے لیے آئینی ترمیم لائی جائے۔ وفد کا موقف تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں یہ ترمیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گورنر سندھ کی تبدیلی: ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو ہٹا کر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ مقرر کرنے پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔
کراچی کے منصوبے: ملاقات میں کراچی میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور فنڈز کے بروقت اجرا پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم کی یقین دہانی: وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم کے مطالبات کو “جائز” قرار دیتے ہوئے گورنر سندھ نہال ہاشمی کو ہدایت کی کہ ایم کیو ایم کو کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مطالبات پر تفصیلی غور کے لیے آئندہ ہفتے ایک اور اہم ملاقات طے کر دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت 28ویں ترمیم لانے پر راضی ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کے بلدیاتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی ہوگی اور ایم کیو ایم کیلئے ایک بڑی سیاسی فتح ثابت ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert