بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا، افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہو، پاک فوج کیساتھ کھڑے ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ/ برشور(قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وہ کسی سوشل میڈیا مہم، ہڑتال یا جلوس سے مرعوب ہو کر بلیک میل ہونے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے 40 سال تک افغان مہاجرین کو اپنا پیٹ کاٹ کر پالا، لیکن اس کے بدلے میں جو صلہ ملا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے افغانوں کو پیغام دیا کہ وہ پاکستان میں مساجد اور معصوم لوگوں پر حملے بند کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برشور کو ضلع کا درجہ ملنے کے بعد وہاں منعقدہ ایک بڑے اور تاریخی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جلسے میں قبائلی عمائدین، سیاسی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ضلع برشور کے لیے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی فیصلوں کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ حق اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور عوام انہیں کبھی ظالم کے ساتھ کھڑا نہیں پائیں گے۔ انہوں نے بلوچستان میں نئے اضلاع کے قیام کا نظریہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پسماندہ اور پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ترقی کے دھارے میں لانا اور انتظامیہ کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ برشور کے لیے میرٹ پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS/DMG) کے ایک قابل افسر خالد صاحب کو پہلا ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈی سی کو ہدایت کی کہ وہ عوام کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئیں اور سرکاری اداروں کو عوام کی خدمت کے لیے ان کے پیروں پر کھڑا کریں۔ : برشور میں موجود تمام 254 اسکولوں کو ہر صورت فعال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ چھ ماہ بعد وہ خود ان اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور اگر اسکول بند پائے گئے تو سخت سزا دی جائے گی۔
برشور کے اسپتال کو باقاعدہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا۔

علاقے کے 12 بنیادی مراکز صحت (BHUs) کو ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد کے بڑے ڈاکٹرز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ مقامی خواتین کو علاج کے لیے دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔
قیامِ امن کے لیے موجودہ دو تھانوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر پولیس، ایف سی اور پاک فوج مل کر علاقے کا امن یقینی بنائیں گے۔
میونسپل کمیٹی کا قیام: وزیراعلیٰ نے جلسے کے دوران ہی برشور کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے کا سرکاری آرڈر (نوٹیفکیشن) لہراتے ہوئے مقامی نمائندے اسفند یار کاکڑ کے حوالے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کی رکاوٹوں کے باوجود میں نے اپنا یہ وعدہ پورا کر دیا ہے۔
سیاسی مخالفین کا تذکرہ کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کچھ دوستوں سے سیاسی اختلاف ضرور ہے لیکن وہ ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا، “مجھے دکھ ہوتا ہے جب سوشل میڈیا پر تنقید کی جاتی ہے، لیکن میں واضح کر دوں کہ میں ہڑتالوں، جلوسوں اور بلیک میلنگ سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔” انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کے دوسرے فیز میں ان مخالفین کی جائز ضروریات کو بھی ترجیح دی جائے گی لیکن دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔

افغان پالیسی اور قومی سلامتی پر دو ٹوک موقف
وزیراعلیٰ نے قومی سلامتی کے امور پر انتہائی سخت اور واشگاف الفاظ میں بات کی۔ انہوں نے کہا:
ہم نے 40 سال تک افغان بھائیوں کی خدمت کی، اپنا پیٹ کاٹ کر انہیں پالا، لیکن اس بھائی چارے کا جو انجام اور صلہ ہمیں ملا، وہ اچھا نہیں تھا۔ میں افغان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ یہاں قتل و غارت گری بند کریں، ہماری مساجد میں دھماکے مت کریں اور معصوم لوگوں کو شہید نہ کریں۔”
انہوں نے پاک فوج اور آرمی چیف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل عاصم منیر جیسے دلیر اور مدبر سپہ سالار کی موجودگی میں پاکستان کے ایک انچ کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انہوں نے مجمعے سے ‘پاکستان زندہ باد’ کے فلک شگاف نعرے بھی لگوائے۔
مسئلہ فلسطین اور ایران پر موقف
خطاب کے دوران انہوں نے بین الاقوامی حالات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے معصوم مسلمانوں کے قتلِ عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی ملک میں معصوم جانوں کا ضیاع ناقابلِ قبول ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے ملک کو خوشحال اور مضبوط بنانا ہوگا۔

عوامی عزم اور اسفند یار کاکڑ کو خراجِ تحسین
خطاب کے آخر میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خراب موسم اور ہیلی کاپٹر کے لیے ناموافق حالات کے باوجود انہوں نے اپنے اسٹاف کی وارننگ کو نظر انداز کیا اور عوام سے کیا گیا وعدہ نبھانے برشور پہنچے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ توبہ کاکڑی کے آخری گاؤں تک جائیں گے۔
انہوں نے مقامی رہنما اسفند یار کاکڑ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ، “انہوں نے مجھ سے کبھی اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں مانگا، وہ جب بھی آئے، برشور اور توبہ کاکڑی کی عوام کے حقوق اور ترقی کے لیے آئے۔”
جلسے کا اختتام وزیراعلیٰ اور عوام کی جانب سے پاکستان کے حق میں نعرے بازی اور علاقے کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے عہد کے ساتھ ہوا۔
