امریکا اور اسرائیل کی اصفہان میں رہائشی عمارتوں پر بمباری، خواتین و بچوں سمیت 26 شہری جاں بحق، ایران کا تل ابیب پر کلسٹر میزائلوں سے جوابی وار


تہران/تل ابیب (قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری پاک ایران و عرب اسرائیل جنگ انتہائی خونی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران نے ‘وعدہ صادق چہارم’ نامی آپریشن کے تحت امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا فضائی اور بحری حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، حملوں کی 84 ویں لہر میں کویت کی ‘الشویخ بندرگاہ’ پر موجود امریکہ کے 6 جدید ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 لڑاکا جہاز سمندر برد ہو گئے جبکہ بقیہ 3 جہازوں میں لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ دبئی کے ساحل اور ایک مقامی ہوٹل میں مقیم امریکی فوجی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ادھر سعودی عرب میں واقع ‘سلطان ایئربیس’ پر بھی ایرانی میزائلوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں امریکہ کے کئی اہم ری فیولنگ طیارے تباہ اور 12 امریکی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایران کے شہر اصفہان میں رہائشی آبادی پر شدید بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں 26 شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں 7 معصوم بچے اور 7 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قم شہر میں بھی امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 6 شہری نشانہ بنے جبکہ تہران میں رہائشی عمارتوں پر بمباری سے درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ہلالِ احمر ایران کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار ہفتوں سے جاری اس ہمہ گیر جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 1937 ایرانی شہری و فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ایران نے ان حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر کلسٹر میزائلوں کی بارش کر دی ہے، جس سے ایک اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائلوں نے تل ابیب کی کثیر المنزلہ عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس کے بعد پورے شہر میں سائرن بج اٹھے اور لاکھوں لوگ زیرِ زمین شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ایران نے خلیجی ممالک بحرین اور قطر میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے بغیر اجازت ‘آبنائے ہرمز’ عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر بھی حملہ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا ہے۔ ادھر سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت ریاض پر 6 ایرانی میزائل داغے گئے، جن میں سے 2 کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ 4 غیر آباد علاقوں میں گرے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی اب ایک عالمی ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert