سول ہسپتال مچھ میں طبی سہولیات کا بحران، ڈاکٹرز کی غیر حاضری سے مریض خوار

مچھ(قدرت روزنامہ) تحصیل ہیڈ کوارٹر سول ہسپتال مچھ میں طبی سہولیات کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں نصف درجن سے زائد مرد و خواتین ڈاکٹرز کی تعیناتی کے باوجود او پی ڈی اور ایمرجنسی کا پورا بوجھ پیرا میڈیکل اسٹاف اور کمپانڈرز کے کندھوں پر ہے۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹرز کی بڑی تعداد رہائشی کوارٹرز کی خستہ حالی کا بہانہ بنا کر ڈیوٹی سے مسلسل غائب رہتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایم ایس ہسپتال مبینہ طور پر طبی معائنے کے بجائے خود کو صرف سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔
تحقیقات سے یہ ہوش ربا انکشاف بھی ہوا ہے کہ حکومت کے نافذ کردہ ڈیجیٹل بائیومیٹرک حاضری سسٹم کو بھی تکنیکی طور پر بائی پاس کیا جا رہا ہے، جس سے حاضری کا پورا نظام سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ہسپتال میں ادویات کی شدید قلت ہے اور مریضوں کو ‘آبِ زم زم’ کی طرح انتہائی کم مقدار میں دوائیں دی جا رہی ہیں، جبکہ ایکسرے، ای سی جی اور لیبارٹری جیسی بنیادی سہولیات طویل عرصے سے غیر فعال ہیں۔ مچھ جیسے اہم جغرافیائی مقام پر، جہاں قومی شاہراہ اور ریلوے لائن کے حادثات روز کا معمول ہیں، سرجن اور فزیشن کی عدم دستیابی کے باعث معمولی زخمیوں کو بھی کوئٹہ ریفر کر دیا جاتا ہے، جس سے غریب مریضوں کے اخراجات اور جانی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
علاقے کے سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر حاضر مسیحاں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ہسپتال میں فوری طور پر چائلڈ اسپیشلسٹ، سرجن اور ضروری مشینری فراہم کی جائے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر علاج میسر آ سکے۔
