بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور جنگی طیاروں کی برسات، سعودی عرب نے 1,000 سے زائد ڈرونز مار گرائے، کویت، قطر اور بحرین بھی نشانے پر، مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جنون عروج پر

ریاض/دبئی(قدرت روزنامہ)عرب میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی ہولناکیوں کے حوالے سے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں، جن کے مطابق ایران نے گزشتہ 30 دنوں کے دوران خلیجی ممالک پر 5 ہزار 200 سے زائد بڑے حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر جنگی طیاروں کا بھی استعمال کیا گیا، جس نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک کے دفاعی نظام نے اس جارحیت کے خلاف غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے:
سعودی عرب: سعودی دفاعی نظام نے گزشتہ ایک ماہ میں ایران کی جانب سے داغے گئے 57 میزائلوں اور 1,006 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر کے بڑے جانی و مالی نقصان کو ناکام بنا دیا۔
متحدہ عرب امارات: امارات پر سب سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے جہاں 413 میزائلوں اور 1,914 ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، تاہم جدید دفاعی نظام نے ان حملوں کو بڑی حد تک بے اثر کر دیا۔
کویت: کویتی حدود میں 309 بیلسٹک میزائل اور 616 ڈرونز داغے گئے جن سے وہاں کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
قطر: ایران نے قطر پر 206 میزائل اور 90 ڈرونز کے علاوہ 2 جنگی طیاروں کے ذریعے بھی حملہ کیا، جو جنگ کی شدت میں اضافے کی علامت ہے۔
بحرین: بحرینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک ماہ کے دوران ایران کے 174 میزائل اور 391 ڈرون مار گرائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی اتنی بڑی تعداد اور تنوع ظاہر کرتا ہے کہ خطہ ایک مکمل تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے، تاہم خلیجی ممالک کے پیٹریاٹ اور دیگر میزائل ڈیفنس سسٹمز نے اب تک کسی بڑی تباہی کو روک رکھا ہے۔
