بلوچستان اسمبلی میں پولیس کے ہاتھوں مبینہ ہلاک اسرار قلندرانی کے لیے فاتحہ خوانی پر تنازعہ، وزیراعلیٰ کی مخالفت پر حکومتی رکن کا واک آؤٹ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اسرار قلندرانی کے معاملے پر شدید بحث دیکھنے میں آئی، جہاں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں فاتحہ خوانی کی مخالفت کر دی، جس پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ اجلاس کے دوران اسرار قلندرانی کے قتل پر اظہار افسوس کے لیے فاتحہ خوانی کی تجویز پیش کی گئی، تاہم وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ واقعہ افسوسناک ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن مذکورہ شخص ایک کریمنل تھا، اس لیے بلوچستان اسمبلی جیسے معزز ایوان میں اس کے لیے فاتحہ خوانی مناسب نہیں۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان کے بعد ایوان میں ماحول کشیدہ ہو گیا اور اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی آغا عمر احمد زئی نے وزیراعلیٰ کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت ہر شہری کے لیے فاتحہ خوانی ہونی چاہیے، چاہے اس کا ماضی کچھ بھی ہو۔ انہوں نے واضح اعلان کیا کہ اگر فاتحہ خوانی نہیں کی جاتی تو وہ بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کریں گے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے موقف پر عمل کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اجلاس کے دوران دیگر اپوزیشن اراکین نے بھی اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسی بھی شخص کی موت پر کم از کم انسانی ہمدردی کے تحت دعا کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ دوسری جانب حکومتی اراکین نے وزیراعلیٰ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور روایات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور ایسے افراد کے لیے فاتحہ خوانی مناسب نہیں جن پر سنگین نوعیت کے الزامات موجود ہوں۔ اسرار قلندرانی کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید حقائق واضح ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کسی قسم کی زیادتی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
