بلوچستان اسمبلی ‘ بلوچستان انسداد گداگری بل 2025 پر غور، پیشہ ور بھکاریوں اور منظم گروہوں کے خلاف سخت سزاؤں کی تجویز، بحالی کے لیے فلاحی اداروں میں رہائش فراہم کی جائے گی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان انسدادِ گداگری بل 2025 پر چیئرمین فضل قادر مندوخیل کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں بل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان اسداللہ بلوچ، فرح عظیم شاہ اور صفیہ فضل کے علاوہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش، اور محکمہ قانون و صوبائی اسمبلی کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں حالیہ عرصے کے دوران بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سڑکوں، چوراہوں، شاہراہوں اور تجارتی مراکز پر پیشہ ور گداگروں کی موجودگی بڑھ گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بھیک مانگنا اکثر منظم گروہوں کے استحصال کا نتیجہ ہوتا ہے، جہاں افراد کو زبردستی، اسمگلنگ یا دیگر طریقوں سے اس عمل پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس بل میں ایسے عناصر کے خلاف سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے جو اس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ مزید برآں، اس قانون میں صرف سزا تک محدود نہ رہتے ہوئے بھکاریوں اور ان کے زیر کفالت افراد کی بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں سرکاری منظور شدہ فلاحی اداروں میں رہائش، نگہداشت اور معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ معاشرے میں دوبارہ باعزت طریقے سے شامل ہو سکیں۔ بل میں بچوں اور زیر کفالت افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ انہیں مزید استحصال سے بچایا جا سکے اور انہیں مناسب تعلیم، نگہداشت اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بل بھیک مانگنے کو ایک سماجی مسئلہ اور عوامی خلل دونوں کے طور پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کے بنیادی اسباب جیسے غربت اور تعلیم کی کمی کو دور کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ بل پر غور کے دوران اراکین نے محکمہ سماجی بہبود کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ فلاحی اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
