اپوزیشن کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان! تحریک تحفظِ آئین کا سربراہی اجلاس؛ ایران امریکہ جنگ بندی کا خیر مقدم، عمران خان ، ایمان مزاری ‘ علی وزیر کی فوری رہائی کا مطالبہ۔

تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اہم سربراہی اجلاس: 25 اپریل کو ملک گیر احتجاج اور یکم مئی کو مزدور ریلیوں کا اعلان؛ ایران امریکہ جنگ بندی کا خیر مقدم سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اہم سربراہی اجلاس اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر مرکزی قائدین نے شرکت کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کے بعد 25 اپریل کو ملک گیر ضلعی سطح پر احتجاجی جلسوں اور یکم مئی کو محنت کشوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس کے اعلامیے میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی اور چین میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات پر زور دیا گیا، جبکہ داخلی سطح پر بلوچستان میں جاری آپریشنز کو فوری بند کرنے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان اور سردار اختر مینگل کے خلاف مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ایک اہم سربراہی اجلاس زیرِ صدارت تحریک تحفظ أئین پاکستان سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی چیئرمین قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزى منعقد ہوا۔
اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس (قائد حزب اختلاف سینیٹ)، سلمان اکرم راجہ (سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف)، بیرسٹر گوہر خان (چیئرمین پاکستان تحریک انصاف)، فردوس شمیم نقوی (ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی)، صاحبزادہ حسن رضا(سربراہ سنی اتحاد کونسل)، سید زین شاہ (سربراہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی) ، ساجد خان ترین (سینئیر راہنما بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل)، محمد زبیر (سابق گورنر سندھ)، مصطفی نواز کھوکھر، ڈاکٹر عمار علی جان (چیئرمین حقوق خلق پارٹی، حسین احمد یوسفزئی (ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اور خالد یوسف چوہدری (وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان ) شامل تھے۔
اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، علاقائی حالات بالخصوص ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، بلوچستان کے حالات، آئندہ احتجاجی حکمت عملی، اور عمران خان کے ساتھ جاری ناانصافی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
شرکاء نے ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین اس پر مکمل عملدرآمد کریں گے، جس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایران کے ساتھ ساتھ لبنان، شام اور غزہ کے مسائل کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ تحریک نے عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شرکاء نے چین میں منعقدہ پاکستان افغانستان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا اور علاقائی ترقی اور امن و امان کے کے لئے پڑوسیوں سے سنجیدہ مکالمہ اور بات چیت ہی سب سے بہترین راستہ ہے۔ تحریک تحفظ آئین کا مؤقف جنگ کے بجائے مذاکرات، قومی سلامتی اور علاقائی امن کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کسی بھی تنازع کا حل فوجی تصادم نہیں بلکہ بامعنی مکالمہ ہے۔
اجلاس میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملکی سیاست میں مکالمے، قانون کی حکمرانی اور مفاہمت کو فروغ دے، کیونکہ عوامی رائے کا احترام ہی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ داخلی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔
بلوچستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ جاری آپریشن فوری طور پر بند کیے جائیں، اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور پرامن جمہوری ماحول بحال کیا جائے۔ اس ضمن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید برآں بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور صوبے کے وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے اقدام کا خیر مقدم کیا گیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان و اسلام آباد ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام مقدمات، ضمانتوں اور ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور جیل میں قید قائد تحریک انصاف کی وکلاء، اہلِ خانہ اور سیاسی رفقاء سے ملاقاتوں کو فوری بحال کیا جائے اور اڈیالہ جیل حکام عمران خان کے سپریم کورٹ کے لئے قانونی دستاویزات جلد مکمل کروائیں۔۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان آئین کی بحالی، سیاسی قیدیوں بشمول عمران خان کی رہائی اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے مطالبات کے حق میں 25 اپریل کو ملک گیر ضلع وائز جلسے منعقد کیے جائیں گے۔
شرکاء نے اسیر راہنما سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا ، ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ ، علی وزیر ،صمد وزیر کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی اور ان کی جلد رہائی کی مطالبہ کیا۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے۔ اجلاس میں عمران خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
یکم مئی کے موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک بھر میں محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالے گی اور معیشت کی بحالی کے لیے متبادل اقتصادی ایجنڈا پیش کرے گی۔
ملک کی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مہنگائی نے غریب، کسان اور مزدور طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس سلسلے میں کسانوں اور مزدور تنظیموں کو متحد کر کے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا۔
تحریک نے تنظیمی سطح پر پنجاب اور سندھ میں صوبائی کمیٹیوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ پنجاب میں تنظیم سازی کی ذمہ داری ڈاکٹر عمار علی جان جبکہ سندھ میں سید زین شاہ کو سونپی گئی۔
اجلاس میں 20 مئی 2025 کے مبینہ “مورو کیس” میں گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا اور سندھ میں دفعہ 144 کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ عوام کو پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہار رائے کی آزادی حاصل ہو سکے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام، عوامی حقوق کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر مثبت اقدام میں قومی مفاد کو مقدم رکھے گی

WhatsApp
Get Alert