سرکاری ملازمین کے پنشن نظام میں تاریخی اصلاحات، نیا “کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ سسٹم” نافذ، حکومت 12 اور ملازم 10 فیصد حصہ ڈالیں گے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) حکومتِ بلوچستان نے سرکاری ملازمین کے پنشن نظام میں تاریخی اصلاحات کرتے ہوئے “کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ سسٹم” نافذ کر دیا ہے۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس نئے نظام کے تحت اب حکومت اور ملازمین دونوں مل کر پنشن فنڈ میں حصہ ڈالیں گے۔ حکومت ملازم کی بنیادی تنخواہ کا 12 فیصد جبکہ ملازم اپنی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ اس فنڈ میں جمع کرائے گا، جس سے مجموعی طور پر 22 فیصد رقم فنڈ کا حصہ بنے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبائی خزانے پر پنشن کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا اور نظام کو طویل المدتی بنیادوں پر پائیدار بنانا ہے۔محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، نئے نظام میں ملازمین کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو 10 فیصد سے زائد رقم بھی جمع کرا سکتے ہیں تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں زیادہ مالی فوائد مل سکیں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نیا قانون بنیادی طور پر نئی بھرتیوں پر لاگو ہوگا، جبکہ پہلے سے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں کوئی کمی یا تبدیلی نہیں کی جائے گی اور وہ پرانے نظام کے تحت ہی مراعات حاصل کرتے رہیں گے۔ معاشی ماہرین نے اسے مالی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے اس نئے ماڈل پر مزید مشاورت اور وضاحت کی توقع کی جا رہی ہے۔
