جے یو آئی کو ایک منظم عالمی سازش کے تحت سیاسی منظرنامے سے دور رکھا گیا،مولانا عبدالواسع


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 اپریل کو مردان کے مقام پر جے یو آئی ایک بار پھر اپنی بھرپور عوامی قوت کا عملی مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ ملک کے روشن اور مستحکم مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات تک قربان کیں اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر افسوس کہ ہمارے اس ذمہ دارانہ رویے کو کمزوری سمجھا گیا اور اس کا تمسخر اڑایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جے یو آئی کو تمام تر سیاسی دانش میں اس محرکات کو سامنے لائیں جو جے یو آئی کی مینڈیٹ پر شب خون کا موجب بنی اور جمہوری اقدار کو پامال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بدترین اور منظم دھاندلی کا سہارا لیا گیا، اور ہر بار اس عمل کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دہرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے دو صوبوں میں حقیقی معنوں میں حکومت کا وجود نہیں جبکہ باقی دو صوبوں میں بھی مفادات کی بنیاد پر سودے بازی کے ذریعے حکومتیں تشکیل دی گئی ہیں، جو عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جے یو آئی کو ایک منظم عالمی سازش کے تحت سیاسی منظرنامے سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی، مگر بدلتے ہوئے عالمی حالات اس امر کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی بے مثال عوامی مقبولیت کے باوجود اس کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ مخصوص مقاصد حاصل کیے جا سکیں، مگر اب یہ تمام حقائق ایک ایک کرکے بے نقاب ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شاباش پاکستان شکریہ پاکستان’’ اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اپنی ذمہ دارانہ سفارتی پالیسی کے ذریعے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘گریٹر اسرائیل’’ اور ‘‘اکھنڈ بھارت’’ جیسے توسیع پسندانہ نظریات دراصل خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، مگر بدلتی ہوئی عالمی صف بندی اور مسلم دنیا کے بڑھتے ہوئے اتحاد کے باعث یہ منصوبے عملی طور پر ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اپنی سیاسی جدوجہد کو آئین، جمہوریت، اور قومی خودمختاری کے اصولوں کے مطابق جاری رکھے گی اور کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدام کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگی۔انہوں نے عالمی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شورش ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، فلسطین کی صورتحال، اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں نئے سیاسی و معاشی بلاکس تشکیل پا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے اہم جغرافیائی ملک میں ایک مضبوط، خودمختار اور عوامی نمائندہ قیادت کا کردار ناگزیر ہو جاتا ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا، جو عالمی امن کے لیے اس کی سنجیدہ وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

WhatsApp
Get Alert