امریکا ایران مذاکرات: غیر ملکی مندوبین کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ، اہم فیصلوں کا امکان


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے لیے غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی اور انتظامی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس میں سکیورٹی پلان اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔


اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آنے والے غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی اور مہمان نوازی کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران کے مذاکرات کا اسلام آباد میں انعقاد پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کیا جائے گا اور صرف متعلقہ افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی، جبکہ وزارت داخلہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، کمشنر راولپنڈی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی سی اسلام آباد، رینجرز، فیڈرل کانسٹیبلری اور وزارت خارجہ کے نمائندوں نے شرکت کی اور سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
’اب سب کچھ ٹھیک ہے، الحمدللہ‘، حکام کا اطمینان
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے انعقاد سے قبل جنگ بندی کی شرائط اور مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق خدشات کے باوجود پاکستانی حکام نے صورتحال کو قابو میں قرار دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح پر ہونے والی مشاورت میں واضح کیا گیا ہے کہ ’اب سب کچھ ٹھیک ہے، الحمدللہ‘۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کے لیے واشنگٹن اور تہران سے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد متوقع ہے، جبکہ پاکستان خود کو عالمی سطح پر امن کے ضامن کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق 2 ہفتوں کی جنگ بندی، جو پاکستان کی معاونت سے ممکن ہوئی، کو بعض چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں لبنان سے متعلق معاملات اور مبینہ خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض عناصر، خصوصاً اسرائیل، اس جنگ بندی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستانی حکام مذاکرات کی کامیابی پر مرکوز ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے حساس معاہدوں میں وقتی ابہام اور خلاف ورزیاں غیر معمولی نہیں ہوتیں، اور یہ مجموعی امن عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔
اہم پیشرفت سے باخبر شخصیات اس پورے عمل پر سخت رازداری اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا بیرونی مداخلت سے بچا جا سکے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس مرحلے پر خاموش سفارت کاری ہی کامیاب مذاکرات کی ضمانت بن سکتی ہے۔
دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں ان مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی سیاست کی 5 بااثر شخصیات ایک میز پر، اہم فیصلوں کا امکان
اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات میں دنیا کی 5 بااثر شخصیات شریک ہو رہی ہیں، جن کا کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور امن کی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سیاسیات، فلسفے اور قانون کے پس منظر کے حامل ہیں۔ وکالت سے شہرت حاصل کرنے کے بعد وہ 2022 میں سینیٹر اور 2025 میں نائب صدر بنے، اور امریکی داخلی و عالمی طاقت کے توازن پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکوف ایک کامیاب ریئل اسٹیٹ سرمایہ کار اور سابق وکیل ہیں، جو 2025 میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے مقرر ہوئے۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور پیچیدہ عالمی تنازعات، خصوصاً اسرائیل حماس اور روس یوکرین معاملات میں فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔
جیریڈ کشنر جو ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سابق مشیر رہ چکے ہیں، قانون اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے ماہر ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم سفارتی پیشرفت، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں، میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باعث عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔
ایران کی نمائندگی باقر قالیباف کر رہے ہیں، جو پولیٹیکل جغرافیہ میں پی ایچ ڈی کے حامل، سابق میئر تہران اور موجودہ اسپیکر ہیں۔ ان کا عسکری اور انتظامی تجربہ مذاکرات میں اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور تجربہ کار سفارتکار ہیں، جو طویل عرصے سے وزارت خارجہ کے پالیسی و تحقیقی امور سے وابستہ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان پانچوں شخصیات کی موجودگی اسلام آباد مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، جہاں ممکنہ طور پر خطے کے مستقبل، عالمی تعلقات اور امن کی نئی جہتوں کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی مندوبین اور صحافیوں کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک بیان اور وزارت داخلہ کی سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات 2026 میں شرکت کے لیے آنے والے تمام غیر ملکی مندوبین، صحافیوں اور متعلقہ افراد کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سہولت کے تحت ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام افراد کو بغیر ویزا بورڈنگ کی اجازت دیں جبکہ پاکستانی امیگریشن حکام ایئرپورٹس پر ویزا آن ارائیول جاری کریں گے۔


نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلام آباد مذاکرات 2026 کے سلسلے میں آنے والے تمام غیر ملکی وفود اور صحافیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ بیان کے مطابق متعلقہ ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام مسافروں کو، جو اس کانفرنس سے متعلق سفر کر رہے ہیں، بغیر ویزا کے بورڈنگ کی اجازت دیں۔
اس فیصلے کی تائید میں وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے 10 اپریل 2026 کو جاری کردہ ایک فوری سرکاری مراسلہ بھی سامنے آیا ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ٹاکس 2026 کے لیے آنے والے تمام افراد کو ویزا آن ارائیول فراہم کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ایئرپورٹس پر خصوصی سہولت ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔

سرکاری خط کے مطابق ایئرلائنز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ مسافروں کو بغیر پیشگی ویزا کے سفر کی اجازت دیں، جبکہ امیگریشن حکام ان کی آمد پر ویزا جاری کریں گے۔ مراسلہ وزارت خارجہ، وزارت دفاع، ایف آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کیا گیا ہے تاکہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام اسلام آباد ٹاکس 2026 کے دوران غیر ملکی شرکاء اور میڈیا نمائندوں کی سہولت اور سفری رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے ایک خصوصی انتظام قرار دیا جا رہا ہے۔
پاک فرانس وزرائے خارجہ رابطہ، لبنان جنگ بندی کیخلاف ورزیوں پر تشویش
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل باروٹ نے ٹیلیفون کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات سمیت لبنان میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے خطے میں ابتدائی جنگ بندی کے معاہدے کو یقینی بنانے میں پاکستان کے کلیدی اور فعال کردار کو سراہا اور اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو مبارکباد دی۔ انہوں نے خطے میں مستقل امن و استحکام کے لیے سفارتی راستے اختیار کرنے کی پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کا مکمل احترام اور اس پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
پاکستان اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کو دہرایا۔ ملاقات میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا اور مستقبل میں بھی مسلسل رابطے میں رہنے کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert