اسرائیلی پارلیمنٹ کا فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون ہٹلرکی پالیسیوں سےمختلف نہیں، اردوان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت نافذ کرنےکا فیصلہ ہٹلر کی یہودیوں کے خلاف پالیسیوں سے مختلف نہیں ہے۔
ایک تقریب سے خطاب میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں1994 میں جنوبی افریقا میں ختم کیےگئے نسلی امتیاز کے نظام سے بھی بدتر شکل نافذ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہودیوں کے خلاف ہٹلر کی ہولناک پالیسیوں اور اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس فیصلے میں کوئی بنیادی فرق ہے جسے بڑے اہتمام سے منظور کیا گیا؟ کیا یہ سب فلسطینی عوام کے خلاف ظلم اور سیاسی قتل کی پالیسیوں کی نئی شکل نہیں ہے؟
اردوان نے کہا کہ صرف فلسطینیوں پر سزائے موت نافذ کرنا نسلی امتیاز کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ جس کا ترکیے بھی حصہ ہے حالیہ برسوں میں نہایت تکلیف دہ، مشکل اور تاریک حالات سے گزرا ہے، بدقسمتی سے ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا شروع ہو جاتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ عموماً خواتین اور معصوم بچوں پر پڑتا ہے، غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیےگئے 72 ہزار سے زائد شہریوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا ہمارے پڑوسی شام میں 13 سال سے زائد جاری خانہ جنگی میں بھی سب سے زیادہ قیمت خواتین اور بچوں نے ہی ادا کی، اب ایک اور پڑوسی ایران پر حملوں کے ابتدائی متاثرین میں بھی خواتین اور بچے شامل ہیں، جنگ کے ابتدائی دنوں میں میناب کے اسکول پر فضائی حملے میں 165 سے زائد معصوم بچے جان سے گئے، جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی لبنان کے خلاف بمباری اور قبضے کی پالیسی نے سب سے زیادہ خواتین اور بچوں کو متاثر کیا۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیل کے شہری آبادی والے علاقوں پر حملوں کے باعث 12 لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، ان حملوں میں 1500 سے زائد لبنانی جاں بحق جب کہ 4700 زخمی ہوئے ہیں، جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اسی دن اسرائیل نے بے دردی سے 254 لبنانیوں کو قتل کر دیا، یہ نسل کشی کا نیٹ ورک جو خون اور نفرت میں اندھا ہو چکا ہے، معصوم بچوں اور خواتین کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

WhatsApp
Get Alert