پولیس حراست میں نوجوان اسرار قلندرانی کی مبینہ ہلاکت، بلوچستان ہائی کورٹ کا سخت نوٹس، متعلقہ حکام طلب، جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک نہایت اہم اور حساس نوعیت کی آئینی درخواست (سی پی نمبر 444/2026) کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بنچ نے پولیس حراست میں مبینہ ہلاکت کے کیس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو طلب کر لیا۔درخواست گزار کی جانب سے ان کے وکیل غلام فاروق مینگل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا بیٹا حافظ اسرار احمد، جو پیشے کے لحاظ سے درزی تھا، کو 27 مارچ 2026 کو ایگل اسکواڈ نے سریاب روڈ کے علاقے قمبرانی سے گرفتار کیا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے خاندان کو یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ زیرِ تفتیش ہے اور جلد رہا کر دیا جائے گا۔تاہم چھ دن بعد سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب ڈویڑن کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ حافظ اسرار احمد نے تھانہ نیو سریاب کے لاک اپ میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ جب اہل خانہ بولان میڈیکل کالج ہسپتال پہنچے تو ڈیوٹی ڈاکٹر نے موت کو ‘‘غیر فطری’’ قرار دیا اور لاش کی تصاویر بھی فراہم کیں، جن سے اہل خانہ کے شکوک میں مزید اضافہ ہوا۔درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے شفاف تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کو درخواست دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ سی سی ٹی وی ریکارڈ کے حصول، لاش کے طبی معائنے اور دیگر قانونی اقدامات کے لیے دائر درخواستوں پر بھی متعلقہ عدالتوں نے دائرہ اختیار کی بنیاد پر کارروائی سے انکار کر دیا۔عدالت عالیہ نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے دیا اور تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا دفتر کو ہدایت کی کہ وہ واقعے سے متعلق مکمل اور جامع رپورٹ بمعہ شواہد جمع کرائے۔مزید برآں، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب، ایس ایچ او تھانہ کیچی بیگ اور ایس ایچ او تھانہ نیو سریاب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت کی انسپکشن برانچ کو سیشن جج سریاب اور جوڈیشل مجسٹریٹ-II سریاب (مس فضا بختاور) سے بھی رپورٹس طلب کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 اپریل 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert