امن و امان کی تباہی، 30 لاکھ بچے سکولوں سے باہر، بلوچستان حکومت کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت عوام کے لیے عذاب بن گئی، نصراللہ زیرے ‘ عیسیٰ روشان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لے، گیس پریشر کی کمی اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے، حکومتی اور سیکورٹی اخراجات میں کمی لا کر عوام پر مسلط ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے، صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر پر فوری قابو پایا جائے، علی وزیر سمیت تمام سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے، جبکہ افغان کڈوال عوام کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرکے انہیں پاکستان کے سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء کے تحت فوری شہریت دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں لاکھوں بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کے خلاف پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کے زیر اہتمام جاری داخلہ مہم کے سلسلے میں 19 اپریل بروز اتوار صبح گیارہ بجے لیاقت پارک کوئٹہ سے ایک عظیم الشان ریلی نکالی جائے گی۔ طلبہ، طالبات، والدین اور باشعور شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس اہم عوامی مہم میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پریس کلب کوئٹہ کے سامنے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی سیکریٹری وارث افغان، دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی خطاب کیا، جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض پارٹی کے ضلع سینئر معاون سیکریٹری ندا سنگر نے سرانجام دیے۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی نسیم اللہ خواری کش نے حاصل کی۔ مظاہرے میں پارٹی کے سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈوکیٹ ، پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز ، عبدالرزاق خان بڑیچ، رحمت اللہ صابر، عبیدعاللہ توخی، محمود ریاض، پروفیسر اسد خان ترین، سندھ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری نظام خان، پارٹی کے مرکزی و صوبائی کمیٹی کے اراکین اور ہزاروں عوام نے شرکت کی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے قائم غیر آئینی اور غیر نمائندہ حکومت نے ایران۔اسرائیل جنگ کو جواز بنا کر ایک جھٹکے میں پیٹرولیم مصنوعات اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی مالی دباؤ اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے عوام کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔ اس اضافے کے فوری نتیجے میں ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ہوا، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، بالخصوص بلوچستان میں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام، مزدور، سرکاری ملازمین، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کش، طلبہ اور متوسط طبقہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ عوام کی آمدن محدود ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں خاندان دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔ موجودہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر بحران کا بوجھ عوام پر منتقل کر دیا ہے۔ مقررین نے کوئٹہ میں گیس پریشر کی شدید کمی اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری روزانہ اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہر دو گھنٹے بعد گیس غائب ہو جاتی ہے، پائپوں میں صرف ہوا آتی ہے، اور پھر اچانک گیس آنے سے دھماکوں اور آتشزدگی کے واقعات پیش آتے ہیں، جن سے انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کے نرخ فوری کم کیے جائیں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ حکمران امریکی سامراج اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، مگر عوام پر مہنگائی مسلط کرنے میں پیش پیش ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اس وقت صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت، اغواء اور بدامنی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ہزارگنجی سمیت مختلف علاقوں میں حالیہ واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ جو حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو جائے، اسے حکمرانی کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں رہتا۔ انہوں نے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی مسلسل گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علی وزیر وزیرستان کے ایک باوقار سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دے چکے ہیں۔ ان کے خاندان کے سترہ افراد دہشتگردی کا شکار ہوئے، مگر اس کے باوجود انہیں مسلسل قید و بند میں رکھا جا رہا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مقدمات سے بری کیے جانے کے باوجود انہیں دوبارہ گرفتار کرنا آئین اور انصاف کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علی وزیر سمیت نوراللہ ترین، حنیف پشتون اور دیگر سیاسی کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، بلوچ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو آزادی دی جائے۔ مقررین نے افغان کڈوال عوام کے خلاف جاری کارروائیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغان کڈوال عوام کو نصف صدی قبل حکمرانوں نے اپنے سیاسی و تزویراتی مفادات کے لیے یہاں آباد کیا، اور آج جب ان کی تیسری نسل یہاں پیدا ہو چکی ہے تو انہیں زبردستی اور غیر انسانی طریقے سے نکالا جا رہا ہے، جو نہایت شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان کڈوال عوام کے خلاف جاری آپریشن بند کیا جائے اور انہیں پاکستان کی شہریت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف (UNICEF) کی رپورٹ کے مطابق اس وقت صوبے میں 30 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، جو ایک انتہائی المناک صورتحال ہے۔ مگر صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ اسی سلسلے میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں داخلہ مہم ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں 19 اپریل بروز اتوار صبح گیارہ بجے لیاقت پارک سے داخلہ آگاہی ریلی نکالی جائے گی، جس میں تمام طلبہ، طالبات، والدین، اساتذہ اور باشعور شہری بھرپور شرکت کریں۔ مقررین نے صوبائی حکومت کی جانب سے پشتو، بلوچی، براہوی، ہزارگی اور دیگر زبانوں کی اکیڈمیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوششوں پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ادیبوں، شاعروں اور اہلِ قلم کی فکری آزادی کو محدود کرنا ہے، مگر یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ شاعر اور ادیب معاشرتی حالات کی ترجمانی کرتے ہیں اور انہیں پابندیوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان اکیڈمیوں کے خلاف تمام اقدامات فوری واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ضلع سبی کے سینئر معاون سیکریٹری اور مرکزی کمیٹی کے رکن انجینئر صادق خان خجک کو 10 مئی 2025ء سے لاپتہ کیا گیا ہے۔ پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ انجینئر صادق خان خجک کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام کے خلاف امتیازی کارروائیوں کے تحت شناختی کارڈ بلاجواز بلاک کیے جا رہے ہیں، جس سے پشتون عوام میں شدید احساسِ محرومی پایا جا رہا ہے۔ مقررین نے نادرا سے مطالبہ کیا کہ پشتون عوام کے تمام بلاک شناختی کارڈ فوری طور پر کلیئر کیے جائیں اور شہریوں کو غیر ضروری اذیت دینا بند کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے ملازمین کے گرینڈ الائنس سے حکومت نے وعدے کیے، مگر وعدوں کے باوجود ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے، جو حکومتی بدعہدی اور نااہلی کا ثبوت ہے۔ مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر عوامی مسائل حل نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور صوبہ بھر میں بھرپور عوامی مزاحمت کی جائے گی۔ پارٹی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر ظلم، ناانصافی، مہنگائی، جبر اور قومی امتیاز کے خلاف اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
