بلوچستان : ہسپتالوں میں ایمبولینسوں کی قلت، 100 سے زائد گاڑیاں بااثر شخصیات کے زیرِ استعمال ہونے کا انکشاف، محکمہ صحت کی بدانتظامی عوام کی جانوں سے کھیلنے لگی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)صوبہ بلوچستان میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل میں ایک اور تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے، جہاں ایمبولینسوں کی شدید قلت کے باعث عوام کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ انکشاف ہوا ہے کہ 100 سے زائد سرکاری ایمبولینسیں مبینہ طور پر سیاسی شخصیات اور بااثر افراد کے گھروں میں موجود ہیں یو این اے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں ہسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز کو ایمبولینسوں کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث مریضوں کو ہنگامی صورتِ حال میں بروقت ہسپتال منتقل کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے جہاں اکثر مریضوں کو ذاتی گاڑیوں یا دیگر غیر محفوظ ذرائع سے منتقل کیا جاتا ہیدرجنوں نہیں بلکہ 100 سے زائد ایمبولینسیں سرکاری استعمال کے بجائے مبینہ طور پر بعض سیاسی شخصیات، سابق و موجودہ نمائندوں اور بااثر افراد کے گھروں یا ذاتی استعمال میں ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو فراہم کی جانے والی ایمرجنسی سروس بری طرح متاثر ہو رہی ہے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایمبولینس سروس کسی بھی صحت کے نظام کا بنیادی جزو ہوتی ہے، اور اس کی عدم دستیابی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی سرکاری ایمبولینسیں ذاتی استعمال میں رکھی گئی ہیں تو یہ نہ صرف بدانتظامی بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضح مثال ہے عوامی حلقوں اور سماجی کارکنوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمبولینسیں عوام کی امانت ہیں اور انہیں فوری طور پر واپس لے کر ہسپتالوں اور ریسکیو سروسز کے حوالے کیا جانا چاہیے دوسری جانب محکمہ صحت کے بعض حکام نے غیر رسمی طور پر اس مسئلے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمبولینسوں کی تقسیم اور نگرانی کے نظام میں خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ مقف سامنے نہیں آیا بحران سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایمبولینس سروس کا باقاعدہ ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جائے، جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے اور ان کے استعمال کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو روکا جا سکے عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم مسئلے کو فوری بنیادوں پر حل کیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert