بلوچستان حکومت کے دعوے کھوکھلے، بی ایم سی میں غیر قانونی بھرتیوں کا اشتہار مسترد، محکمہ صحت کی خاموشی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، پی ایم اے کوئٹہ زون

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے ترجمان نے بولان میڈیکل کالج (BMC) کے آئی سی یو اسٹاف کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے حالیہ اشتہار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگست 2025 میں نافذ کیے گئے سیمی آٹونومس ایکٹ کے تحت اداروں میں شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے واضح قانونی فریم ورک دیا گیا ہے مذکورہ ایکٹ کی سیکشن 8(2) کے مطابق، ایکٹ کے نفاذ کے وقت تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ یا ایگزیکٹو ڈائریکٹر زیادہ سے زیادہ چھ (06) ماہ تک اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے یا جب تک نئے MS/ED کی تقرری نہ ہو، جو بھی پہلے ہوچونکہ اگست 2025 سے یہ مدت مکمل ہو چکی ہے، اس لیے موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت اور اس کے تحت کیے جانے والے تمام انتظامی اقدامات، بشمول حالیہ بھرتی کا اشتہار، واضح طور پر غیر قانونی، غیر آئینی اور ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ امر بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ صوبائی وزیر صحت، بخت محمد کاکڑ کی جانب سے متعدد ایکٹس کی منظوری کے دعوؤں کے باوجود، ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے قانون سازی کے بعد اس پر عملدرآمد حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ان ایکٹس کو محض کاغذی کارروائی تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکرٹری ہیلتھ جن کی بنیادی ذمہ داری اس ایکٹ کو نافذ کرنا، اس کے مطابق تقرریاں اور اشتہارات یقینی بنانا ہے وہ بھی اس قانون پر عملدرآمد کروانے میں ناکام نظر آتے ہیں اس طرز عمل سے نہ صرف قانون کی عملداری متاثر ہو رہی ہے بلکہ ادارہ جاتی نظام کی ساکھ بھی شدید مجروح ہو رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف قانون کی روح کے منافی ہے بلکہ میرٹ کی نفی، اقرباء پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک اور مثال ہے ماضی میں ٹراما سینٹر، بی آئی سی وی ڈی اور دیگر اداروں میں اسی طرز عمل کے منفی نتائج سامنے آ چکے ہیں، جنہیں کسی صورت دوبارہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کوئٹہ زون واضح کرتا ہے کہ اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہر سطح پر قانونی، آئینی اور جمہوری جدوجہد کی جائے گی متعلقہ حکام سے فوری طور پر اس اشتہار کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اگر اس غیر قانونی اقدام کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو ڈاکٹر برادری سخت ردعمل دینے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
