وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی صدر کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب، تبدیلی کی افواہیں ختم، تاہم ارکان کے فنڈز، تبادلوں اور امن و امان کے شکوے حکومتی ہم آہنگی پر سوالیہ نشان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک بار پھر صدر آصف علی زرداری کا اعتماد حاحل کرنے میں کامیاب ہو گئے بلوچستان کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات میں سب کو مل کر چلنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مئی کے بعد کوئٹہ آؤں گا کارکنوں اورارکان پارلیمنٹ سمیت دیگر لوگوں سے بھی ملاقات کروں گا اور جو چھوٹے موٹے مسائل ہیں وہ بھی حل ہوجائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ روز ارکان پارلیمنٹ جن میں صوبائی وزراء ارکان قومی اسمبلی ، سینیٹرز اور پارٹی کی صوبائی قیادت موجود تھی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انتہائی باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کہ ملاقات کافی دیر جاری رہی جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ناراض اراکین اسمبلی نے صدر مملکت کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے ذرائع کے مطابق یہ شکوے شکایات زاتی نوعیت کے تھے کسی نے کہا کہ میرے فنڈز نہیں مل رہے تو کسی نے شکایت کی میرا ڈی سی اور ایس پی نہیں لگایا جارہا اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کسی بھی معاملے میں ہم کو اعتماد میں نہیں لیتے جس کی وجہ سے صوبے میں بے چینی پائی جاتی ہے اور خصوصا وزیر اعلیٰ بلوچستان کیانتہائی سخت رویے کی وجہ سے صوبے میں امن وامان کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے جبکہ پارلیمنٹیرینز کا دوسرا گروپ جو کہ وزیر علیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا حمایتی تھا نے انتہائی ٹھوس اور مدلل انداز میں اپنا موقف پیش کیا ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کے ابھی دو سال مکمل نہیں ہوئے ہیں اور مختصر عرصے میں صوبائی حکومت نے ہر شعبے میں ڈیلیور کیا ہے عوا م کے ریلیف کیلئے اقدامات کئے ہیں جس کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں حکومت تعلیم ، صحت ، ٹرانسپورٹ ،سکالر شپس ، فارن سکالرشپس ، نوکریوں میں میرٹ کو رائج کرنا شامل ہیں اور جون تک مزید اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوجائیں گے تمام انڈیکیٹرز اچھے ہیں جہاں تک امن وامان کا مسئلہ ہے وہ آج کا نہیں ہے بلکہ سالوں پرانا ہے جس کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں اور صوبے میں ایک مخلوط حکومت ہے بہت سی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے چھوٹی موٹی شکایات پیدا ہوتی ہیں جنکو باہی مشاورت سے دور کیا جاسکتا ہے اتنا بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ اس کیلئے وزیراعلیٰ کو تبدیل کیا جائے اس موقع پر صدر زرادری نے نے کہا کہ میں نے اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اس لئے نہیں بلایا کہ آپ کو اکیلئے سن سکوں کیونکہ وزیر اعلیٰ کے سامنے بات کرنا آسان نہیں ہوتا بہر حال میں چین کے دورہ پر جارہا ہوں اور وہاں سے واپسی پر جلد بلوچستان کا دورہ کروں گا اور دورے کے دوران میں پارٹی قیات ،کارکنوں اور ارکان اسمبلی سے بھی ملوں گا آپ سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے تاکہ صوبے کے مسائل اچھے انداز میں حل ہو سکیں۔ اس ملاقات کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی کی جو خبریں گردش کر رہی تھیں وہ دم توڑ گئی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert