کیا حجرا سود کے کچھ ٹکڑے استنبول کی مساجد میں نصب ہیں؟حیرت انگیز دعوے سامنے آگئے


ریاض(قدرت روزنامہ)خانہ کعبہ کے حجرِ اسود کے ٹکڑوں اور عثمانی دور کی عمارتوں سے متعلق دعوے سامنے آگئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 16ویں صدی میں خانہ کعبہ کی مرمت کے بعد حجرِ اسود کے کچھ ٹکڑے مکہ واپس نہیں بھیجے گئے بلکہ انہیں سلطنتِ عثمانیہ کی اہم مذہبی و شاہی عمارتوں میں نصب کیا گیا۔
ان دعوؤں کے مطابق معروف معمار “میمر سنان” نے سب سے بڑا ٹکڑا استنبول میں مقبرہ سلیمانِ اعظم میں نصب کیا، جبکہ دیگر ٹکڑے سوکولو محمد پاشا مسجد میں شامل کیے گئے۔ مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ رکنِ یمانی سے منسوب ایک ٹکڑا “ایسکی مسجد” میں رکھا گیا۔
تاہم اس حوالے سے مستند تاریخی شواہد محدود ہیں اور ماہرین کے مطابق ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے انہیں حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے سے قبل مزید تحقیق درکار ہے۔

WhatsApp
Get Alert