لندن واقعے پرعلامہ طاہر اشرفی کا مؤقف بھی آگیا، تفصیلات شیئر کردیں


لندن (قدرت روزنامہ) لندن میں ہراسانی کے واقعے کے بعد پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہرا شرفی کا مؤقف بھی آگیا اور انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایاکہ ’’میں اپنی فیملی کیساتھ لندن میں ایک دوست کی دعوت پر جارہا تھا تو PTI اور کچھ دیگر فتنہ پروروں نے مجھے اور میری فیملی کو روکا اور بے ہودگی کی، پاک فوج کیخلاف بات کی، میں نے کہاکہ آج تو پوری دنیا ہمارے سپہ سالار کے گیت گارہی ہے، یہ رویہ مناسب نہیں لیکن سب سے سوال ہے کہ کل آپ کی بہن یا بیٹی ساتھ ہو اور آپ کیساتھ یہی کچھ کیا جائے تو کیا برداشت کرپائیں گے؟‘‘
ان کا مزید کہناتھاکہ میں عمران خان کے پاس نہیں گیا تھا کہ مجھے اپنا سپیشل نمائندہ بنالیں، وہ میرے پاس آئے تھے، 3 لوگوں نے مجھ سے درخواست کی تھی اور وہ لوگ زندہ ہیں، پوچھ سکتے ہیں، کبھی اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لیے ایک روپے کا فائدہ نہیں لیا تھا۔
اپنے ویڈیو پیغام میں طاہر اشرفی نے بتایاکہ روکنےو الےلوگوں نے ہراسانی کی کوشش کی اور ایک ہی ان کا سوال تھا کہ فوج اور سپہ سالار کی حمایت کیوں کرتے ہیں، میں نے کہاکہ وہ عظیم جرنیل بن گئے ہیں جن پر پوری دنیا محبت برسا رہی ہے، دعائیں کررہی ہے، میں اپنی فیملی کے ساتھ ہوں، تحریک انصاف کے ذمہ دار موقع پر موجود تھے ، انہیں بھی سوچنا چاہیے، عمران خان کے جیل میں ہونے اور ان کی بہنوں سے ملاقات نہ ہونے کے بارے میں ہمارا مؤقف واضح ہے لیکن یہاں پر مریم اورنگزیب سمیت دیگر لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوچکا ہے ، ہم یہ نہیں کریں گے اور نہ ہمیں سکھایا گیا لیکن آپ یہ جو سب کچھ کررہے ہیں، کونسا اخلاق یا تعلیم اس کی اجازت دیتی ہے۔
ان کا کہناتھاکہ جس طرح عرب نوجوانوں نے مجھے گھیرے میں لیااور آپ بھاگے، وہاں اگر تصادم چاہتے یا کوئی برا کام ہوجاتا تو اس کے ذمہ دار آپ لوگ ہوتے ، یہ بدمعاشی یا غنڈہ گردی قابل قبول نہیں، آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح لوگوں کو ڈرا لیں گے ، ذمہ داران کو کم از کم احساس ہونا چاہیے کہ اس سے منفی چیزیں نکلتی ہیں، آج یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں، کل اس پر شرمند ہوں گے ۔
میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں عمران خان کے پاس نہیں گیا تھا کہ مجھے اپنا سپیشل نمائندہ بنالیں، وہ میرے پاس آئے تھے، آن ریکارڈ موجود ہے ، 3 لوگوں نے مجھ سے درخواست کی تھی اور وہ لوگ زندہ ہیں یا پھر جیل جا کر پوچھ سکتے ہیں،شہبازگل ، شاہ محمود قریشی یا اعظم خؒان موجود ہیں، کبھی اپنے لیے یا اپنی لوگوں یا اپنی جماعت کے لیے ایک روپے کا فائدہ نہیں لیا تھا، یااس منصب سے کوئی فائدہ لیا ہو تو مجرم ہوں، اگر ڈیلیو ر کیا اور اس وقت جب عالم عرب کیساتھ تعلقات کو تباہ کردیاگیا تھا، اس کو بحال کیا، ہم نے کانفرنسیں کیں ، کسی سے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ہم نے اپنے اللہ اور اپنے ملک کے لیے کیا تھا۔

WhatsApp
Get Alert