اپنے نام کا کتبہ تو لگا دیا اب کام کب شروع کرو گے؟ کراچی میں ترقیاتی کام کی حقیقت عیاں

کراچی (قدرت روزنامہ)کراچی میں ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی کارکردگی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف بڑے بڑے ترقیاتی دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف عملی صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی کارکردگی پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے جنہیں بعض شہری شہریوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث قرار دے رہے ہیں۔

شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی میں گزشتہ 18 سال سے صوبائی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت موجود ہے اور بلدیاتی نظام بھی زیادہ تر اسی جماعت کے زیرِ اثر رہا ہے اس کے باوجود بنیادی شہری سہولیات اور انفراسٹرکچر کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ناقدین کے مطابق مسلسل حکومتی تسلسل کے باوجود شہر کی حالت میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ نظر آ رہا ہے۔

اسی تناظر میں نارتھ ناظم آباد بلاک ایف کی ایک مثال شہریوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق اکتوبر 2025 میں اس علاقے میں ایک سنگِ مرمر (ماربل) کا سلیب نصب کیا گیا تھا جسے ترقیاتی کام کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تاہم اس کے بعد سڑک کی تعمیر کا بنیادی کام ہی مکمل نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال نے علاقے کے لوگوں میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اپنے نام کا کتبہ لگانے کے بعد متعلقہ حکام نے سڑک کی تعمیر کو نظر انداز کر دیا جس کی وجہ سے روزمرہ آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں نے طنزیہ انداز میں حکام کو یاد دہانی کروائی ہے کہ نشانیاں تو لگا دی گئیں مگر اصل کام یعنی سڑک اب تک غائب ہے۔

شہری حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ترقیاتی منصوبے صرف نمائشی اقدامات تک محدود رہیں گے تو پھر عوامی مسائل کیسے حل ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا جبکہ شہری اب بھی نارتھ ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے منتظر ہیں۔

WhatsApp
Get Alert