ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ کو نئی تجاویز بھجوا دیں
وائٹ ہاؤس نے تجاویز کی وصولی کی تصدیق کردی، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکہ اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہے یا نہیں؛ رپورٹ

تہران/واشنگٹن(قدرت روزنامہ)ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجاویز پیش کردی ہیں جن میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کا کہہ دیا گیا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق نئی ایرانی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی گئی ہے، اس میں پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے پر توجہ دینے کی بات کی گئی ہے، اس کے تحت یا تو جنگ بندی کو طویل مدت کیلئے بڑھایا جائے گا یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے گا، جب کہ جوہری مذاکرات بعد میں شروع کیے جائیں گے، اس تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے کیوں کہ ایرانی قیادت اس وقت اس حوالے سے منقسم ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکہ کو کیا رعایتیں دی جائیں۔
Iran offers U.S. deal to reopen strait but postpone nuclear talks https://t.co/itYX9tM7rL
— Axios (@axios) April 27, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے اور ایرانی قیادت کے اندر اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق کس حد تک رعایت دی جائے، ایرانی تجویز کا مقصد اس حساس معاملے کو فی الحال پس پشت ڈال کر فوری طور پر کسی معاہدے تک پہنچنا ہے، تاہم اگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہو جاتی ہے اور جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی وہ اہم سفارتی برتری کھودیں گے جس کے ذریعے وہ ایران کو افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے اور یورینیم کی افزودگی روکنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی وصولی کی تصدیق کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکہ اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہے یا نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے جس میں مذاکراتی تعطل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
